سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 670 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 670

670 دفعہ ایسا ہوتا کہ پادری پولیس کو جا کر اکساتے اور پولیس اس وقت چھاپا مارتی جب کچھ لوگ آپ کے پاس موجود ہوتے۔ایک طالب علم نے اسلام قبول کیا تو خفیہ پولیس نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے اسلام نہ چھوڑا تو اس کے لئے اچھا نہ ہو گا۔ایک اور شخص نے اسلام قبول کیا تو اسے اس کے افسروں نے ڈرایا دھمکایا اور مجبور کیا کہ وہ چرچ جا کر اعتراف گناہ کرنے۔اگر کوئی بیچارا کبھی کوئی کتاب لینے مولا نا کرم الہی ظفر صاحب کے پاس آتا تو اس کے ہاتھ کانپ رہے ہوتے اور کتاب پکڑ کر وہ جلدی سے جانے کی کرتا۔یہ حالت ۱۹۷۰ ء تک رہی جب سپین میں مذہبی آزادی کا اعلان کیا گیا۔(۳) (۱) الفضل ۵ استمبر ۱۹۴۹ء ص ۴ (۲) الفضل ۱۵مئی ۱۹۵۶ء ص ۲-۳ (۳) تاریخ سپین مشن مرتب کرده وکالت تبشیر ربوه ماریشس جیسا کہ پہلے ماریشس کے حالات بیان کرتے ہوئے یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ ۱۹۴۰ء کی دہائی کے آغاز میں حضرت مسیح موعود کے صحابی حضرت حافظ جمال احمد صاحب یہاں پر مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے۔اس وقت یہاں پر تقریباً آٹھ صدا فراد کی ایک مختصر جماعت قائم تھی۔یہاں پر روز بل کا مقام جماعت کا ملکی مرکز تھا۔اس کے علاوہ سینٹ پیٹر فینکس ، پورٹ لوئیس ، متایاں لانگ، تریوے، ہمت یاں بلانش کے مقامات پر جماعتیں قائم تھیں اور ان کے علاوہ بعض اور جگہوں پر افرادِ جماعت موجود تھے۔(۲۱) جب اپریل ۱۹۴۹ء میں ربوہ کے نئے مرکز میں پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا تو اس میں ماریشس کے دوست مکرم احمد ید اللہ صاحب بھی شامل ہوئے۔جب وہ سفر کرتے ہوئے مرکز آ رہے تھے تو جہاز پر کچھ اور احمدی بھی سوار تھے۔ایک انجان مخالف نے یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ مسلمان ماریشس سے آ رہا ہے انہیں کہا کہ دیکھنا یہ دو تین آدمی مرزائی ہیں ان کے ساتھ نماز نہ پڑھنا۔اس پر احمد ید اللہ صاحب نے جواب دیا کہ میں خود احمدی ہوں اور پیدائشی احمدی ہوں۔اس پر وہ آدمی حیران ہو کر