سلسلہ احمدیہ — Page 669
669 انہوں نے جواب میں شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اس کتاب کی تعریف میں شاندار تبصرے بھی کئے۔مکرم کرم الہی ظفر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی، کی اشاعت کا فیصلہ کیا۔چنانچہ ۱۹۵۰ء میں اس کتاب کا سپینش ترجمہ شائع کیا گیا۔کتاب ابھی پریس میں ہی تھی اور اس کا ٹائٹل کا صفحہ لگ رہا تھا کہ حکومت نے اس پر بھی پابندی لگا دی۔حکومت سے خط و کتابت شروع کی گئی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اُس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے انہوں نے بہت کوششوں کے بعد یہ اجازت حاصل کر لی کہ اس کتاب کو ابھی ضائع نہ کیا جائے بلکہ اس وقت تک اس کے نسخے مکرم کرم الہی اظفر صاحب کے پاس رہیں جب تک حکومت اس کی اشاعت کی اجازت نہ دے دے۔بعض دوستوں نے اس کتاب کے نسخے یورپ کے دوسرے ممالک میں منگوائے اور یہ ملک سے باہر مقیم ہسپانوی باشدوں میں تقسیم کی گئی اور بعض نسخے سپین کے باشندوں کو بھی بذریعہ ڈاک بھجوائے گئے۔اُس وقت سپین پر جنرل فرانکو حکمران تھے۔کسی کو ان کے سامنے دم مارنے کی جراءت نہیں تھی۔مکرم کرم الہی ظفر صاحب نے تو کل کرتے ہوئے ایک نسخہ جنرل فرانکو کو بھجوا دیا۔چند دنوں کے بعد ان کا حیران کن خط موصول ہوا کہ کتاب مجھے بے حد پسند آئی۔میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔اب آہستہ آہستہ کتاب کی تقسیم شروع ہوئی۔تو پولیس والے پہنچ گئے کہ ممنوعہ کتاب کی تقسیم کیوں کی جارہی ہے۔جب انہیں جنرل فرانکو کا خط نکال کر دکھایا گیا تو پولیس والے خاموشی سے واپس چلے گئے۔۱۹۶۴ء میں حکومت نے اسلامی اصول کی فلاسفی اور میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں کی اشاعت کی اجازت دے دی۔۱۹۵۶ء میں حکومت نے پاکستان کے سفیر کو رابطہ کر کے انہیں کہا سپین کی حکومت اسلام کی تبلیغ کو ملک میں غیر قانونی سمجھتی ہے اس لئے مکرم کرم الہی ظفر صاحب اس سے باز رہیں۔اس پر مکرم کرم الہی ظفر صاحب نے اس پر احتجاج کیا اور حضرت مصلح موعودؓ نے بھی ایک خطبہ میں فرمایا کہ پاکستان میں تو عیسائی مشنری تبلیغ کر رہے ہیں اور پین میں پاکستانی سفیر کے ذریعہ جماعت کے مشنری کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تمہیں یہاں پر تبلیغ کی اجازت نہیں ہے۔(۲) بہر حال انہوں نے مکرم کرم الہی ظفر صاحب کو ملک سے نکالنے کی دھمکی پر عمل نہیں کیا ،مگر ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر پولیس کی نگرانی کڑی ہو گئی۔بسا اوقات لوگ ان کے گھر کے بورڈ پر پتھر مار کر چلے جاتے۔بہت