سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 671 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 671

671 کہنے لگا کہ کیا مرزا صاحب کا مذہب پنجاب سے اتنی دور تک پہنچ گیا ہے۔(۳) مکرم احمد ید اللہ صاحب کی حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ان پر اس بات نے ایک گہرا اثر کیا کہ حضور ان سے اور ان کے خاندان سے اچھی طرح واقف ہیں اور مرکز سے اتنی دور رہنے والوں پر بھی حضور کی شفقت کی اتنی نظر ہے۔(۴) ۲۷ دسمبر ۱۹۴۹ء کو حضرت حافظ جمال احمد صاحب وفات پا گئے۔آپ کو سینٹ پیری میں سپردخاک کیا گیا۔جس وقت آپ کو ماریشس کے لئے روانہ کیا گیا تو جماعت کی مالی حالت نہایت کمزور تھی۔آپ نے اپنے خانگی حالات کی وجہ سے یہ درخواست کی کہ انہیں بیوی بچوں کو ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے۔ان کی یہ درخواست منظور کر لی گئی مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ زندگی بھر اپنے وطن واپس نہیں آئیں گے۔جب ربوہ کا قیام عمل میں آیا تو انہیں اجازت دی گئی کہ وہ واپس آکر نئے مرکز کی زیارت کر لیں۔لیکن تقدیر الہی دیکھئے کہ ابھی وہ پاکستان کے لئے روانہ نہیں ہوئے تھے کہ ماریشس میں ان کی وفات ہوگئی۔اور ان کا عہد کہ وہ زندگی بھر وطن کا منہ نہیں دیکھیں گے پورا ہو گیا۔حضرت مصلح موعود نے ان کی وفات پر فرمایا اس دنیا میں ہزاروں لوگ وعدے کرتے ہیں اور ان کو بھول جاتے ہیں۔لیکن جو لوگ اپنے وعدہ پر قائم رہتے ہیں وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مومنوں کی دعاؤں کے مستحق ہیں۔اور ماریشس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ وہ ملک مبارک ہے جس میں ایسا اولو العزم انسان مدفون ہوا۔(۵) ۱۹۵۲ء میں ماریشس کے لئے جماعت کے نئے مبلغ مکرم بشیر الدین عبید اللہ صاحب ماریشس پہنچے۔آپ کے والد مکرم عبید اللہ صاحب بھی یہاں پر مبلغ کے طور پر کام کر چکے تھے اور یہیں پر آپ کی تدفین ہوئی تھی۔(۶) آپ نے یہاں پر اپنی بھر پور تبلیغی مساعی کا آغاز کیا۔اگلے ایک ڈیڑھ سال میں ہی آپ نے چالیس تبلیغی لکچر دیئے، ریڈیو پر تقریر کی اور مختلف جماعتوں کے تقریباً ایک سو ے کیئے۔حضور کی تحریر کمیونزم اینڈ ڈیموکرسی کو شائع کرایا گیا۔جماعتوں کو منظم کیا گیا اور مختلف عہدوں کے لئے انتخابات کرائے گئے۔خدام الاحمدیہ میں ایک نئی بیداری پیدا ہوئی اور ان کے دور