سلسلہ احمدیہ — Page 624
624 مبلغین تیار کئے گئے اور ان میں سے دو کو سیرالیون بھی بھجوایا گیا۔جب دوسری جنگ عظیم کا اختتام ہوا تو ۱۹۴۵ء کے آخر اور ۱۹۴۶ء کے شروع میں مکرم ملک احسان اللہ صاحب ،مکرم مولا نا عبد الخالق صاحب اور مکرم مولانا بشارت احمد صاحب کو بطور مرکزی مبلغ غانا بھجوایا گیا۔ستمبر ۱۹۴۶ء میں مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر نے گولڈ کوسٹ مشن کا چارج مکرم مولا نا عبد الخالق صاحب کے سپرد کیا اور خود ہندوستان کے لئے روانہ ہو گئے۔آپ کے ہمراہ آپ کے ایک شاگر دمکرم یعقوب صاحب بھی روانہ ہوئے تا کہ مرکز اور حضور اقدس کی زیارت کر سکیں۔دونوں راستے میں حج کی سعادت کے لئے سعودی عرب اترے مگر مکہ معظمہ میں ایک مختصر علالت کے بعد مکرم یعقوب صاحب کی وفات ہوگئی۔اور مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر دس سال سے زائد عرصہ میدانِ جہاد میں گزار نے کے بعدے جنوری ۱۹۴۷ء کو قادیان پہنچے۔گیارہ سال سے زیادہ عرصہ قبل جب آپ افریقہ کے لئے روانہ ہوئے تھے تو آپ بالکل نوعمر نوجوان تھے۔آپ کا نکاح قادیان کے مکرم بھائی محمود احمد صاحب کی سب سی بڑی صاحب زادی آمنہ بیگم سے پڑھا گیا۔ابھی رخصتانہ نہیں ہوا تھا کہ گولڈ کوسٹ کے لئے ایک واقف زندگی کی ضرورت پیش آ گئی۔آپ نے اپنے آپ کو پیش فرمایا۔حضور نے آپ کو اس کام کے لئے منتخب فرمایا۔اور آپ فوراً میدانِ عمل کے لئے روانہ ہو گئے۔گیارہ سال گزر گئے اور نہ آپ واپس آسکے اور نہ ہی آپ کی شادی ہو سکی۔نہ آپ نے واپس آنے کے لئے درخواست دی۔آخر مرکز نے خود آپ کو واپس بلا لیا۔اور جب آپ واپس آئے تو آپ کے بال سفید ہونا شروع ہو چکے تھے۔بالآخر نکاح کے گیارہ سال بعد ۱۶ فروری ۱۹۴۷ء کو آپ کی شادی ہوئی۔(۱۰۔۱۱) غانا میں احمدیوں کی تعداد میں تدریجاً اضافہ ہو رہا تھا۔جب ۱۹۳۱ء میں مردم شماری ہوئی تو یہاں پر احمدیوں کی تعداد تین ہزار تھی۔اور ۱۹۴۸ء کی مردم شماری میں یہ تعداد بڑھ کر۲۲ ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔(۱۲) مکرم مولانا نذیر مبشر صاحب کی روانگی کے چند روز کے بعد مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی گولڈ کوسٹ پہنچ گئے۔آپ مغربی افریقہ کے رئیس التبلیغ تھے اور مکرم مولا نا عبد الخالق صاحب بطور امیر اور مشنری انچارج کے کام کر رہے تھے۔مگر عبد الخالق صاحب کو بیماری کی وجہ سے جلد واپس آنا پڑا اور مکرم مولا نا بشارت احمد صاحب نسیم یہاں کے امیر مقرر ہوئے۔جب دسمبر ۱۹۴۸ء میں آپ کو