سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 623 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 623

623 هندوستان سے باہر اب تک جماعت نے اس سطح کا ادارہ نہیں کھولا تھا۔اس لئے پہلے اس کو شروع کرنے کے لئے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کی ضرورت تھی۔چنانچہ حضور نے مکرم سفیر الدین صاحب کو انگلستان پی ایچ ڈی کرنے کے لئے بھجوایا۔جب چار سال کے بعد ان کی پی ایچ ڈی مکمل ہو گئی تو وہ ۱۹۵۰ء میں حضور کے ارشاد کے تحت گولڈ کوسٹ چلے گئے تا کہ کماسی میں ایک سکینڈری اسکول کا آغاز کر سکیں۔اس راستے میں بہت سی مشکلات حائل تھیں لیکن سکول کے عملے نے مستقل مزاجی سے ان پر قابو پالیا اور یہ سکول ملک کا ایک نامور ادارہ بن گیا۔(۵۴) گولڈ کوسٹ کی جماعت ایک فعال جماعت کی حیثیت سے ابھر رہی تھی اور یہاں پر نظامِ جماعت اپنی روایات کے ساتھ مستحکم ہورہا تھا۔۱۹۴۵ء میں مکرم الحاج محمد الحق صاحب اس جماعت کے پریذیڈنٹ اور مکرم جمال جانسن صاحب جنرل سیکریٹری کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔(۶) گو دوسری جنگ عظیم کے دوران مکرم مولانا نذیر مبشر صاحب گولڈ کوسٹ میں اکیلے مرکزی مبلغ تھے لیکن وہ بڑی جانفشانی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔دیگر اہم فرائض کے علاوہ وہ مختلف مقامات کا دورہ کر کے احمدیت کا پیغام پہنچاتے۔چنانچہ صرف ۴۲ ۴۳ کے مالی سال کے دوران آپ نے ۳۳۸ مقامات کا خود دورہ کیا اور ۴۴ ۴۵ کے سال دوران آپ نے ۳۰۹ دیہات کا دورہ کیا اور ۱۰۰ لیکچر دیئے۔(۸،۷) اُس دور میں مالی حالات ایسے تھے کہ تجارت کی تمام رقم آپ نے جماعت کے بجٹ پر خرچ کرنی شروع کی، جس کے باعث تجارت رک گئی۔اور آپ کو بعض دفعہ ایسی تنگی کا سامنا کرنا پڑا کہ بعض دفعہ ایک دو ہفتہ نمک مرچ کے ساتھ روٹی کھانی پڑی یا وہاں کی مقامی غذا کساوا استعمال کر لیتے۔گوشت جیسی اشیاء ان حالات میں میسر نہ تھیں۔سیرالیون میں جب مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی کو ان حالات کا علم ہوا تو با وجود اس کے کہ انہیں بھی سخت حالات کا سامنا تھا انہوں نے اپنے الاؤنس میں سے نصف مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر کو بھجوانے کا انتظام فرما دیا۔(۹) آٹھ سال تک مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر گولڈ کوسٹ میں اکیلے مرکزی مبلغ تھے۔جیسا کہ حضور کی ہدایت تھی آپ مقامی مبلغین بھی تیار کر رہے تھے۔ان سالوں میں ایسے بائیس مقامی