سلسلہ احمدیہ — Page 625
625 واپس آنے کی اجازت ملی تو مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی نے گولڈ کوسٹ کے امیر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔اور مکرم مولانا نذیر مبشر صاحب بھی جنوری ۱۹۴۹ ء میں گولڈ کوسٹ پہنچ گئے۔اور جب نومبر ۱۹۵۰ء کو مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی گولڈ کوسٹ سے روانہ ہوئے تو مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر نے ایک مرتبہ پھر امیر اور مشنری انچارج کے فرائض سنبھال لئے۔(۱۳) ۱۹۵۰ء کور بوہ میں ہونے والے جلسہ سالانہ میں گولڈ کوسٹ کے ایک احمدی نے بھی شرکت کی۔یہاں پر جماعت ایک عرصہ سے قائم تھی لیکن یہ پہلی مرتبہ تھا کہ مرکزی جلسہ سالانہ میں گولڈ کوسٹ کی نمائیندگی ہو رہی تھی۔یہ خوش نصیب مکرم حاجی حسن عطاء صاحب تھے۔آپ نے ۱۹۳۶ء میں بیعت کی تھی اور کماسی کی ٹاؤن کونسل کے ایک اعلیٰ عہدہ پر کام کر رہے تھے۔آپ نے جلسہ سالانہ میں شرکت کی اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔(۱۴) گولڈ کوسٹ میں احمدیوں کو بہت سے ظلموں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں پر احمدیت پھیل رہی تھی۔اور کئی صاحب اثر احباب بھی احمدیت قبول کر رہے تھے۔چنانچہ جب ۱۹۵۱ء میں گولڈ کوسٹ اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو تین احمدی احباب بھی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔یہ تین احباب مکرم محمد آرتھر صاحب ، مکرم نوح بن ابو بکر صاحب اور مکرم مومن کوری صاحب تھے۔(۱۵) اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ یہاں کے احمدیوں میں سے کچھ مرکز جائیں اور دین کی تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک میں احمدیت کی تبلیغ کا کام کریں۔چنانچہ حضرت مصلح موعود کی منظوری سے اس غرض کے لئے دو طلباء کا انتخاب کیا گیا۔یہ دو طلباء بشیر بن صالح اور عبدالوہاب آدم صاحب تھے۔یہ طلباء تیرہ چودہ سال کی عمر کے تھے۔یہ دونوں مکرم بشارت احمد صاحب بشیر کے ہمراہ نومبر ۱۹۵۲ء میں ربوہ پہنچے۔۱۹۵۷ء میں بشیر بن صالح شدید بیمار ہو گئے اور انہیں واپس جانا پڑا اور کچھ عرصہ کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔مکرم عبدالوہاب آدم صاحب نے آٹھ سال ربوہ میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور پھر اپنی عملی خدمات کا آغاز کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو خدمت دین کی توفیق عطا فرمائی۔اب آپ غانا کے امیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔(۱۶) جلسہ سالانہ جماعتی روایات کا ایک اہم حصہ ہے۔اب گولڈ کوسٹ کے احمدیوں میں