سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 622 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 622

622 معلم صالح کو بلا کر کہا کہ آپ کے امیر اس بات پر تیار ہو گئے ہیں کہ احمدیوں کو وا سے نکال کر کہیں اور آباد کیا جائے۔مگر معلم صالح نے اُس وقت حکمت سے اس بات کو ٹال دیا۔پھر ایک مسلمان حج جو زیر تبلیغ تھے انہوں نے حکومت کو لکھا کہ حکومت کے لئے ایسا قدم اُٹھانا مناسب نہیں ہے تو پھر حکومت نے یہ تجویز کیا کہ وا کے احمدیوں کو وہاں سے نکال کر ایک دو میل کے فاصلے پر آباد کیا جائے۔مگر بعد میں مکرم مولانا نذیر احمد مبشر صاحب کی کوششوں سے یہ فیصلہ بھی منسوخ ہو گیا۔خدا کی قدرت کہ ۱۹۲۹ء میں گولڈ کوسٹ کی سرحدی پولیس کے ایک ملازم نے بذریعہ خط و کتابت احمدیت قبول کی تھی۔وہ اصل میں وا کے رہنے والے تھے۔جب وہ ریٹائر ہوکر ۱۹۵۰ء میں وا وا پس آئے تو انہیں وہاں کا پیرا ماؤنٹ چیف مقرر کیا گیا۔اور ۱۹۵۱ء میں وہ گولڈ کوسٹ کی اسمبلی کے ممبر بھی منتخب ہو گئے۔جہاں سے احمدیوں کو نکالنے کی سازش کی جا رہی تھی وہیں کا ایک احمدی پیراماؤنٹ چیف بن گیا۔وا میں احمدیت تو ترقی کرتی رہی مگر اس کے علاوہ وا کے لوگوں نے یہ نظارہ بھی دیکھا که معلم صالح جنہیں وہ کبھی قتل کرنے کی کوششیں کرتے تھے اور کبھی ان کو اپنے علاقے سے نکالنے کی سازش کرتے تھے، جب فوت ہوئے تو اس کے کچھ عرصہ کے بعد انہی کا بیٹا اس علاقے کا چیف کمشنر مقرر ہوا۔(۳۲) گولڈ کوسٹ کے تعلیمی نظام پر عیسائی مشنری اداروں کا قبضہ تھا۔ایک تو تعلیمی اداروں کی کمی تھی اور دوسرے مسلمان پس ماندہ تھے۔تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت عیسائی تھی۔مسلمان لڑکے عیسائی اسکولوں میں جاتے تو ان کا عیسائی نام بھی رکھا جاتا۔بلکہ بعض مسلمان والدین اپنے بچوں کے نام بدل کر عیسائی نام لکھواتے تا کہ داخلہ میں آسانی رہے۔ان اداروں میں باضابطہ طور پر عیسائیت کی تعلیم مسلمان طلباء کو بھی دی جاتی۔جب یہ بچے پڑھ کر کالج سے باہر نکلتے تو عیسائیت کے رنگ میں رنگین ہو چکے ہوتے۔ان خوفناک حالات کے پیش نظر جماعت گولڈ کوسٹ میں خاص طور تعلیمی ادروں کے بنانے پر توجہ دے رہی تھی۔۱۹۳۵ ء تک سنٹرل ریجن میں چھ اسکول قائم ہو چکے تھے۔۱۹۴۱ء میں اشانٹی ریجن میں کماسی کے شہر میں بھی ایک سکول کا اجراء کیا گیا۔اب تک جماعت صرف پرائمری اور مڈل سکول چلا رہی تھی۔۱۹۴۴ء میں خود انسپکٹر آف سکولز نے مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر کو اس طرف توجہ دلائی کہ جماعت کو اب یہاں پر ایک سکینڈری اسکول کھولنا چاہئیے۔