سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 619 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 619

619 گولڈ کوسٹ (غانا) : ہم ۱۹۳۹ء تک کے حالات کا جائزہ لے چکے ہیں کہ کس طرح گولڈ کوسٹ میں جماعت ترقی کر رہی تھی۔یہ ذکر بھی آچکا ہے کہ ۱۹۳۷ء میں مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر یہاں پر مبلغ بن کر تشریف لائے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو ایک طویل عرصہ گولڈ کوسٹ میں نمایاں خدمات کی توفیق ملی۔حضور کے ارشاد کے تحت آپ کو جماعت کی تربیت ، درس قرآن مجید اور مبلغین کلاس کو پڑھانے کے کام پر لگایا گیا۔اُس وقت مرکز کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ گولڈ کوسٹ میں دو مبلغین کا خرچ برداشت کیا جاتا۔چنانچہ پہلے تو یہ فیصلہ تھا کہ نئے مبلغ کا خرچ گولڈ کوسٹ کی جماعت برداشت کرے گی لیکن مکرم مولانا نذیراحمد مبشر صاحب کو وہاں پہنچ کے احساس ہوا کہ جماعت گولڈ کوسٹ یہ اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے چلتے وقت آپ کو ارشاد فرمایا تھا کہ تجارت کی طرف بھی توجہ کریں۔چنانچہ آپ نے دیگر فرائض کے علاوہ کھیل کے سامان کی تجارت کا کام بھی شروع کر دیا۔اور آپ عصر سے مغرب تک دارالتبلیغ کے ایک حصہ میں بیٹھ کر تجارتی خط و کتابت کرتے اور اشیاء کی فروخت کرتے۔مشترکہ تجارت سے اتنے وسائل پیدا ہونے لگ گئے کہ آپ کے گزارہ کے لئے ایک قلیل رقم مقرر کی گئی، جس میں نہایت کفایت اور تنگی سے گزارہ ممکن تھا۔جب اکتوبر ۱۹۳۷ء میں مولانا نذیر احمد صاحب علی ، آپ کو مشن کا چارج دے کر سیرالیون تشریف لے گئے تو آپ پر کام کا بوجھ بہت بڑھ گیا۔آپ کو ابھی انگریزی زبان پر بھی ایسا عبور نہیں تھا۔دوسری طرف تجارت ،مبلغین کلاس کو پڑھانے ، جماعت کی تربیت سکولوں کی مینیجری ، خط و کتابت کے علاوہ تبلیغی دوروں کی ذمہ داری بھی آپ پر پڑ گئی۔اوپر سے پورا ملک ایک بحران کی زد میں آ گیا۔آبادی کے ایک بڑے حصے کا انحصار کوکو کی فصل پر تھا جسے برآمد کیا جاتا تھا۔کو کو خریدنے والی یورپین کمپنیوں نے آپس میں سمجھوتا کر لیا کہ وہ کوکو کی فصل نہ خریدیں یا اگر خریدیں تو بہت کم قیمت پر خریدیں۔چونکہ جماعت زیادہ تر کاشت کاروں پر مشتمل تھی اس لئے اس بحران کا جماعتی چندے پر بہت برا اثر پڑا اور مشن کے وسائل مزید محدود ہو گئے۔یہ حالت ۱۹۳۸ء کے آخر تک رہی۔