سلسلہ احمدیہ — Page 620
620 جیسا کہ پہلے بھی یہ ذکر آ گیا ہے کہ اب جماعت کی ترقی کے ساتھ ، جماعت کی مخالفت بھی شروع ہو رہی تھی۔اور اس کے لئے طرح طرح کے طریقے اختیار کئے جارہے تھے۔جون ۱۹۳۹ء میں مکرم مولانا نذیر احمد مبشر صاحب کو یہ اطلاع ملی کہ ایک حاجی مکہ معظمہ سے آکر ایک گاؤں صراحہ میں مقیم ہے اور احمدیوں کو تنگ کر رہا ہے۔آپ وہاں پہنچے اور ان حاجی صاحب سے مل کر اُس سے گفتگو کرنی چاہی۔اُس نے کہا کہ آپ لیکچر دیں، مجھے ضرورت ہوئی تو میں سوال پوچھ لوں گا۔چنانچہ ظہور مہدی اور وفات مسیح پر لیکچر دیا گیا۔اس نے بجائے نفس مضمون پر کوئی اعتراض کرنے کے ایک اور غیر احمدی ملاں سے مل کر شور ڈلوایا۔گاؤں کے چیف نے فساد کے خوف سے جلسہ بند کر دیا۔واپسی کے دو تین بعد مکرم مولانا نذیر مبشر صاحب کو اطلاع ملی کہ غیر احمدی ایک شاہراہ پر جھنڈ ا نسب کر کے خوشیاں منا رہے ہیں کہ انہوں نے احمدیوں کو فتح کر لیا ہے۔اور اس مضمون کا گیت گا رہے ہیں کہ مہدی ابھی ظاہر نہیں ہوا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ زلزلہ نہیں آیا۔چونکہ ارد گرد کی جماعتوں پر اس کا برا اثر پڑ رہا تھا اس لئے اس علاقہ میں جلسے منعقد کر کے زلازل کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں بیان کی گئیں اور ان کے پورے ہونے کا ذکر کیا گیا۔پھر مخالفین کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ آپ لوگ اتنے بے باک نہ ہوں عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے گولڈ کوسٹ میں بھی زلزلہ بھیج دے۔ان جلسوں کو ختم کر کے مکرم نذیر مبشر صاحب ایک اور گاؤں پہنچے جہاں پر آپ نے ایک جلسہ کرنا تھا۔رات کو آٹھ بجے شدید زلزلہ آیا دارالحکومت میں کچھ عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی عمارتوں میں شگاف پڑ گئے۔اس کے علاوہ دوسرے بڑے شہروں اور دیہات میں بھی نقصان ہوا۔جب مکرم نذیر مبشر ساحب تیسرے روز سالٹ پانڈ پہنچے تو بہت سے عیسائی اور مشرک دوتاروں پر یہ گا رہے تھے کہ احمدی بچے ہیں اور مہدی ظاہر ہو چکا ہے۔جماعت کی طرف سے ایک اشتہار اس نشان کے متعلق شائع کیا گیا اور اس زندہ نشان کو دیکھ کر بہت سے افراد نے بیعت کر لی۔دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو جماعت کو اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کچھ افسران نے جماعت کے خلاف ساز باز شروع کر دی۔ایک رات مکرم مولانا نذیر مبشر صاحب نے ایسی خواب دیکھی جس کی تعبیر تھی کہ کوئی دشمن جماعت کے لئے مشکل کھڑی کرے گا۔ابھی انہوں نے اپنے