سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 617 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 617

617 احمدی ہم نہیں مانتے۔ملک کواحمدی کر کے لاؤ۔(۲۷) حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خواہش تھی کہ سیرالیون میں جلد جلد احمدیت پھیلے اور حضور کا ارشاد تھا کہ جو شامی سیرالیون میں مقیم ہیں ان کو تبلیغ کی جائے۔چنانچہ مکرم مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب کی رپورٹ محرره ۲۶ دسمبر ۱۹۵۴ء پر حضور نے ارشاد فرمایا شامیوں کی طرف زیادہ توجہ کی جائے۔ان کے شامل ہونے سے نہ صرف جماعت کی مالی حالت مضبوط ہوگی بلکہ شام میں بھی ترقی ہوگی۔سیرالیون کی جماعت ترقی کر کے گر رہی ہے۔اس وقت تک جماعت کم از کم بارہ تیرہ ہزار ہونی چاہئیے تھی۔اس ملک کی کل آبادی غالباً دس بارہ لاکھ ہے۔اگر کوشش کریں تو جماعت جلد مضبوط ہو جائے گی۔(۲۸) ۱۹۶۰ ء تک سیرالیون میں جماعت کے پرائمری اسکولوں کی تعداد دس ہو چکی تھی لیکن ابھی تک سکینڈری اسکول کھولنے میں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔منظوری ملنے پر ا استمبر ۱۹۶۰ء کو بومشن ہاؤس کے ایک حصہ میں نہایت غریبانہ طرز پر ایک سکینڈری اسکول کا اجرا کیا گیا اور مکرم شیخ نصیر الدین صاحب اس کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے۔اس کے ساتھ سیرالیون میں جماعت کی تعلیمی خدمات ایک نئے دور میں داخل ہوئیں۔نئے سکینڈری اسکول کھولنے کے سلسلے میں مکرم بشارت بشیر صاحب کو خاص کامیابی حاصل ہوئی۔چنانچہ ان کی کاوشوں سے ۱۹۶۴ء میں فری ٹاؤن میں جماعت کا دوسرا اور ۱۹۶۵ء میں بو آجے بو کے مقام پر جماعت کا تیسرا سکینڈری قائم ہوا۔۱۹۶۰ء میں جماعت نے سیرالیون میں اپنی طبی خدمات کا آغاز کیا۔اور مرکز کی طرف سے مکرم ڈاکٹر شاہنواز صاحب کو سیرالیون بھجوایا گیا۔آپ ۲۲ ستمبر ۱۹۶۰ء کور بوہ سے روانہ ہوئے اور سیرالیون پہنچ کر آپ نے بوشہر میں ایک ڈسپنسری کا آغاز کیا اور ڈیڑھ سال تک وہاں پر مقیم رہے۔اور پھر آپ کی واپسی پر مکرم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب نومبر ۱۹۶۱ء میں سیرالیون پہنچے مگر آب و ہوا موافق نہ آنے کی وجہ سے آپ نائیجیریا تشریف لے گئے۔ان کے بعد ڈاکٹر محمد اکرم ورک صاحب نے کچھ عرصہ کام کیا۔(۳۰۲۹) ۱۹۶۱ء میں سیرالیون کو آزادی ملی۔جماعت کی خدمات کی وجہ سے جماعت سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ مرکز سے اپنا نمائیندہ آزادی کی تقریبات میں شرکت کے لئے بھجوائے۔چنانچہ مکرم