سلسلہ احمدیہ — Page 616
616 کو پورا کریں جسکی خاطر اس زمین پر ہم نے قبروں کی شکل پر قبضہ کیا ہو گا۔پس ہماری قبروں کی طرف سے یہی مطالبہ ہو گا۔کہ اپنے بچوں کو ایسے رنگ میں ٹریننگ دیں۔کہ جس مقصد کیلئے ہماری جانیں صرف ہوئیں۔اسے وہ پورا کریں۔(۲۵) اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ سیرالیون میں جماعت کا اپنا اخبار ہو۔چنانچہ ۱۹۵۳ء کے جلسہ میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ سیرالیون مشن کا اپنا پر لیس اور اخبار ہونا چاہئیے۔قریباً ڈیڑھ سال کے بعد ایک اخبار African Crescent کے نام سے شائع ہونا شروع ہوا۔اس کی طباعت اجرت پر ایک عیسائی پریس میں ہوتی تھی۔جس نے جلد ہی اس کی طباعت سے انکار کر دیا اور یہ طعنہ دیا کہ اگر تمہارے مسیح میں طاقت ہے تو اس کی طباعت کا انتظام کر دے۔اگر چہ سیرالیون جماعت کے وسائل محدود تھے لیکن اس طعنہ سے ان کی غیرت جوش میں آئی اور انہوں نے پریس کے حصول کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کرنی شروع کر دیں۔حضور خود سیرالیون میں جماعت کے پر لیس اور اخبار کے اجراء میں دلچسپی لے رہے تھے، چنانچہ حضور نے مشن کی ۱۹ اگست ۱۹۵۶ء کی رپورٹ پر ارشادفرمایا د میں نے تو پہلے ہی کہ دیا تھا کہ اپنا پر لیس بنائیں۔ہم نے یہاں ایک ہزار پونڈ میں خریدا ہے۔پھر اگلے ماہ کی رپورٹ پر ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس لائبریری کو سارے ملک میں احمدیت پھیلنے کا ذریعہ بنائے۔آپ کی طرف سے اخبار کے متعلق اطلاع نہیں آئی۔چندہ کافی جمع ہو چکا ہے۔اخبار نکلنے کا نام نہیں لیتا۔جب حضور کی خدمت میں افریقن کریسنٹ کا شمارہ موصول ہوا تو حضور نے اظہارِ خوشنودی فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ پبلک مفاد کے مضامین بھی آہستہ آہستہ لکھے جائیں۔(۲۶) حضور کی خواہش تھی کہ سیرالیون سے ہمسایہ ممالک مین بھی تبلیغ کی جائے۔چانچہ مکرم مولانا صدیق امرتسری صاحب نے اپنے خط محررہ 9 جنوری ۱۹۵۶ء میں عرض کی کہ بعض نوجوان گیمبیا میں بطور تاجر بھجوائے جا رہے ہیں۔اس پر حضور نے ارشاد تحریر فرمایا بہت نیک خیال ہے۔اللہ تعالیٰ کامیاب کرے۔جانیوالوں کو سمجھائیں کہ ایک دو