سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 615 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 615

615 مساعی کے ساتھ جماعت سیرالیون تعلیمی میدان میں بھی خدمات میں آگے قدم بڑھا رہی تھی۔چنانچہ ۱۹۴۹ء تک یہاں پر جماعت کے چھ اسکول قائم ہو چکے تھے۔(۲۳) اکتوبر ۱۹۵۰ء میں مکرم مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب دوبارہ سیرالیون تشریف لائے اور یہاں کے امیر مقرر ہوئے۔۱۹۵۱ء کے جلسہ سالانہ پر حضرت مصلح موعودؓ نے سیرالیون کی جماعت کے نام یہ پیغام بھجوایا۔آپ کے ملک میں مغربی افریقہ کے ممالک میں سب سے آخر میں تبلیغ شروع ہوئی ہے۔لیکن آپ کا ملک چاروں طرف سے ایسے علاقوں میں گھرا ہوا ہے جو کہ احمدیت سے نا آشنا ہیں۔پس آپ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔اور آپ کے لئے کام کے مواقع بھی بہت پیدا ہو جاتے ہیں۔پس آپ لوگ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنی محنت اور کوشش کو بڑھائیں۔اور نہ صرف اپنے علاقے میں احمدیت کو پھیلانے کی کوشش کریں۔بلکہ لائبیریا اور فرنچ افریقن علاقوں میں بھی تبلیغ کا کام اپنے ذمہ لیں۔(۲۴) جیسا کہ لائبیریا میں مشن کے قیام کے سلسلے میں یہ ذکر آچکا ہے کہ حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں مولوی محمد صدیق صاحب نے ۱۹۵۲ء میں لائبیریا کا دورہ کیا اور وہاں پر احمدیت کا پیغام پہنچایا۔۱۹۵۴ء میں مولانا نذیر احمد صاحب علی آخری مرتبہ سیرالیون پہنچے اور یہاں کے امیر مقرر ہوئے۔۱۹ مئی ۱۹۵۵ء کو آپ سیرالیون میں ہی اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔اور یہیں پر ہی آپ کو سپر د خاک کر دیا گیا۔نومبر ۱۹۴۵ء میں ایک مرتبہ قادیان کے جامعہ احمدیہ میں بیرونِ ملک جانے مبلغین کے اعزاز میں دعوت دی گئی۔اسی دعوت میں اعلان کیا گیا کہ حضور نے مولانا نذیر احمد صاحب علی کومغربی افریقہ کا رئیس التبلیغ مقررفرمایا ہے۔اس پر جب مولانا نذیر احمد صاحب علی تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا آج ہم خدا تعالیٰ کے لئے جہاد کرنے اور اسلام کو مغربی افریقہ میں پھیلانے کے لئے جارہے ہیں۔موت فوت انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ہم میں سے کوئی اگر فوت ہو جائے تو آپ لوگ یہ سمجھیں کہ دنیا کا کوئی دور دراز حصہ ہے۔جہاں تھوڑی سی زمین احمدیت کی ملکیت ہے۔احمدی نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ اس تک پہنچیں۔اور اس مقصد