سلسلہ احمدیہ — Page 614
ارشاد فرمایا 614 بیویوں کے متعلق لکھا جائے کہ سر دست اسی قدر کیا جائے کہ بیعت میں اقرار لیا جائے کہ میں جلد سے جلد اسلامی حکم کے مطابق بیویوں کے بارے میں اپنی اصلاح کی کوشش کروں گا اور مزید کوئی حرکت اسلام کے خلاف نہ کروں گا۔(۲۰) سیرالیون میں بہت سے عیسائی مشن کام کر رہے تھے اور قدرتاً یہ مشن اسلام کو اپنا سب سے بڑا رقیب سمجھتے تھے۔ان مشنوں میں سے ایک UBC بھی تھا جسے امریکہ سے کافی مالی مدد ملتی تھی۔۱۹۴۸ء میں اس کی طرف سے ایک کتاب شائع کی گئی۔جس میں اسلامی تعلیمات کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کرتے ہوئے افریقہ کے باشندوں کو اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی گئی۔سیرالیون کے احمد یہ مشن کی طرف سے فوراً اس کا جواب شائع کیا گیا اور انہیں چیلنج کیا گیا کہ وہ ہمارے مسلمات کی رو سے ان الزامات کو ثابت کریں اور علی الاعلان اس موضوع پر احمدیوں سے مناظرہ کر لیں۔جماعت کا ٹریکٹ تمام سیرالیون میں وسیع پیمانے پر تقسیم کیا گیا ، جس کی وجہ سے عوام کو اس مناظرے میں کافی دلچسپی پیدا ہوگئی۔لیکن اس مشن نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہیں دیا۔اور اپنے افریقن عیسائیوں کو یہ تلقین کی کہ وہ احمدیوں سے مذہبی گفتگو نہ کریں۔(۲۱) مکرم مولا نا محمد صدیق امرتسری صاحب آٹھ سال خدمات سرانجام دینے کے بعد ستمبر ۱۹۴۸ء میں رخصت پر پاکستان روانہ ہوئے۔۔چند ماہ بعد سیرالیون میں یہ انتظامی تبدیلی کی گئی کہ اسے انتظامی لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔مولوی ابراہیم خلیل صاحب فری ٹاؤن کالونی کے انچارج مقرر ہوئے اور مولوی نذیر احمد صاحب رائے ونڈی سیرالیون کے باقی علاقہ کے امیر مقرر ہوئے۔(۲۲) اب تک گوسیرالیون کی جماعت کافی حد تک مستحکم ہو چکی تھی لیکن ابھی تک ملکی سطح پر جلسے کا انعقاد نہیں ہو ا تھا۔مولوی نذیر احمد صاحب رائے ونڈی کے زمانے میں سیرالیون کا پہلا جلسہ سالانہ ۱۳،۱۲ اور ۱۴ دسمبر ۱۹۴۹ء ء کو بو کے مقام پر منعقد کیا گیا۔اس میں سیرالیون کی ۳۳ جماعتوں کے ۹۰۰ احباب نے شرکت کی۔اور مقامی اخبار میں اس کے انعقاد کی خبر میں شائع کی گئیں۔اس کے بعد یہ جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ سیرالیون کی روایت کا ایک درخشندہ حصہ بن گیا۔دیگر تبلیغی اور تربیتی