سلسلہ احمدیہ — Page 52
52 اپنی مرضی سے ہوتا تھا۔مختلف لیڈروں کا نقطہ نظر لوگوں کے سامنے آچکا تھا اور اب فیصلہ ان کے ہاتھ میں تھا۔جنگ سے قبل فوج میں شامل ہندوستانیوں کی تعداد ۶۰۰۰۰ تھی۔اب جب حکومت کی طرف سے بھرتی کا اعلان کیا گیا تو لاکھوں کی تعداد میں ہندوستانی فوج میں بھرتی ہوئے اور یہ تعداد پچیس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔اور بڑی تعداد میں ہندوستانیوں نے فوج میں کمیشن حاصل کیا۔حکومت کو ہندوستان کے دفاع اور دوسرے مقامات پر فوج کے لئے ہندوستان سے جتنی تعداد در کارتھی وہ انہیں مل گئی۔اگر چہ بہت سے بااثر سیاستدانوں کی طرف سے فوج میں بھرتی کی مخالفت کی گئی تھی مگر عوامی سطح پر اس نقطہ نظر کو زیادہ قبولیت حاصل نہیں ہوئی۔(۲۶) آج جب ان واقعات کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے اور تمام حقائق ہمارے سامنے ہیں۔ہم زیادہ بہتر انداز میں ان سب آراء کا تجزیہ کر سکتے ہیں جو دوسری جنگِ عظیم کے آغاز میں مختلف اطراف سے پیش کی جارہی تھیں۔ایک رائے تو یہ تھی کہ اس موقع پر انگریزوں کے مخالفین یعنی جرمنی، اٹلی اور جاپان کا ساتھ دینا چاہیئے تاکہ ان کی مدد سے آزادی حاصل کی جائے۔تاریخی حقائق کا تجزیہ کیا جائے تو عقل اس خیال کو زیادہ وقعت نہیں دے سکتی۔دوسری جنگ عظیم سے قبل بھی یہ طاقتیں ایک کے بعد دوسرے ملک کی آزادی سلب کرتی جارہی تھیں کسی ملک کو ان کے قبضے کے نتیجے میں آزادی کا سورج دیکھنا نصیب نہیں ہوا تھا۔جرمنی تو آسٹریا اور چیکو سلاویکیا کو ہڑپ کر چکا تھا۔اور اٹلی نے البانیہ اور ایسے سینیا کی آزادی غصب کر لی تھی ، اور جاپان نے کوریا کو غلام بنا کر اس کا وہ حشر کیا تھا کہ ان کے مظالم کی بازگشت اب تک سنائی دیتی ہے۔اب یہ خیال کہ ان کی افواج آئیں گی اور ہمیں آزادی کا تحفہ تھما کر رخصت ہو جائیں گی محض ایک خوش فہمی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔دوسرا نظریہ یہ تھا کہ ہٹلر اور مسولینی تو قابلِ مذمت ہیں مگر اب موقع ہے کہ انگریزوں پر دباؤ ڈال کر آزادی حاصل کی جائے ورنہ انگریز ہندوستان کو آزاد نہیں کریں گے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہو جاتی اور حکومت کو ہندوستان سے مطلوبہ افواج نہ مانتیں تو ظاہری بات ہے کہ اس سے جرمنی، اٹلی اور جاپان کو فائدہ پہنچتا۔اور ایک مرحلے پر تو جاپانی افواج رنگون کو فتح کر کے ہندوستان کے دروازے پر پہنچ چکی تھیں۔اگر ہندوستان کی حفاظت کے لئے خاطر خواہ فوج نہ موجود ہوتی تو لازماً کوریا ، سنگاپور، انڈونیشیا اور برما کی طرح ہندوستان پر بھی جاپانی افواج کا قبضہ ہو