سلسلہ احمدیہ — Page 53
53 جا تا۔اب تک اس وقت کی جاپانی حکومت محکوم اقوام سے جو سلوک کر رہی تھی وہ اتنا بہیمانہ تھا کہ اس کے پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔۱۹۳۲ء سے ان کا طریق تھا کہ وہ مفتوح اقوام سے اغوا کر کے یا دوسرے ذرائع سے عورتیں حاصل کر کے انہیں محاذ جنگ سے قریب comfort houses میں رکھتے۔جہاں ان کے فوجی ان مظلوم عورتوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتے۔اس دور میں ایک اندازے کے مطابق دو لاکھ عورتوں کو ان comfort houses میں قید رکھا گیا تھا۔ان میں سب سے زیادہ تعداد کو ریا کی خواتین کی تھی۔ان کے علاوہ فلپائن ، چین ،انڈونیشیا اور برما سے بھی عورتوں کو اغوا کر کے بہیمانہ مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔جاپان نے کوریا پر قبضہ کیا تو وہاں کے لوگوں کی صرف سیاسی آزادی ہی نہیں مذہبی آزادی بھی سلب کر لی ، زبر دستی جاپانی نام اور جاپانی زبان اپنانے پر مجبور کیا۔ان حقائق کو دیکھتے ہوئے ایسے حالات پیدا کرنا جس کے نتیجے میں ہندوستان جاپانی تسلط میں چلا جائے کوئی دانشمندی نہ ہوتی۔یہ بات بھی اہم ہے کہ جنگ جیتنے کے جلد بعد ہندوستان کو ویسے ہی آزاد کر دیا گیا تھا۔بلکہ یہ عمل اتنی جلدی مکمل ہوا تھا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔یہ خیال بھی صحیح ثابت نہیں ہوا کہ اگر دورانِ جنگ انگریزوں کی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھایا گیا تو پھر آزادی کا عمل تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔حقیقت یہی ہے کہ قومی امور کے فیصلے صرف جذبات کی رو میں بہہ کے یا انتقام کے جذبے کے تحت نہیں کئے جاتے بلکہ توازن اور عقل کے ساتھ فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔اور اسوقت ہندوستان کے مفادات کا تقاضہ یہی تھا کہ ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں جن سے محوری طاقتوں کو فائدہ پہنچے، جس کے نتیجے میں وہ ہندوستان پر قبضہ کر لیں اور ہندوستان پہلے سے بھی گری ہوئی حالت میں چلا جائے۔جہاں تک گاندھی جی کے اس نظریہ کا تعلق ہے کہ اگر انگریز ہندوستان چھوڑ دیں تو پھر جاپان حملہ نہیں کرے گا اور مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا تو اس ضمن میں پہلے یہ دیکھنا چاہئیے کہ اب تک جرمنی، اٹلی اور جاپان نے جن ممالک پر قبضہ کیا تھا ، کیا وہاں انگریزوں کی حکومت تھی۔جرمنی نے آسٹریا اور چیکو سلاویکا پر قبضہ کیا تو وہ آزاد تھے۔اٹلی نے جب ایسے سینیا اور البانیہ پر قبضہ کیا تو وہاں انگریز موجود نہیں تھے، یہ ممالک اس وقت تک آزاد تھے۔جاپان نے جب کوریا کو اپنے ملک میں ضم کر لیا یا جب چین پر حملہ کیا تو یہاں بھی انگریزوں کی حکومت نہیں تھی۔تو یہ کلیہ تو کسی طرح صحیح تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ طاقتیں صرف اس وقت حملہ کرتی ہیں جب کسی جگہ