سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 51 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 51

51 مسلمانوں سے صرف چودہ ہزار روپے کا چندہ وصول ہو ا تھا۔(۲۲) بہر حال اس صورتِ حال میں افراد جماعت راہنمائی کے لئے اپنے امام کی طرف دیکھ رہے تھے۔یہ سوال اس لئے بھی اہم تھا کہ کچھ عرصہ سے بعض انگریز افسران جماعت کے متعلق شدید مخالفانہ رویہ دکھا رہے تھے اور احمدیوں کے ذہنوں پر ان واقعات کا گہرا اثر تھا۔حضور نے ایک خطبہ میں یہ صورتِ حال ان الفاظ میں بیان فرمائی گذشتہ پانچ سال سے انگریزوں کے لوکل نمائیند وں نے بلکہ ایک زمانہ میں حکومتِ پنجاب کے نمائندوں نے بھی جماعت سے جس قسم کا سلوک کیا وہ نہایت ہی ظالمانہ اور غیر منصفانہ تھا۔بلکہ یہ حقیقت ہے کہ اپنی طرف سے انہوں نے جماعت کو کچلنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔انہوں نے اس کی عزت پر حملہ کیا۔اس کے مال پر حملہ کیا۔اس کی جائدادوں پر حملہ کیا۔اس کے نظام پر حملہ کیا۔اسی طرح انہوں نے ہمارے نظام کو توڑنے کے لئے مختلف قسم کی سازشیں کیں۔(۲۳) لیکن بڑے فیصلے صرف چند تلخ واقعات یا وقتی جذبات کو مد نظر رکھ کر نہیں کئے جاتے۔جیسا کہ اسی خطبہ جمعہ میں حضور نے فرمایا ” میرے نزدیک ہرا ہم قدم جو انسان اٹھاتا ہے۔اس سے پہلے اسے اپنے مختلف مصالح اور اپنے جذبات کے درمیان ایک فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔۔عظمند انسان ایسے مواقع پر اس مصلحت کے مطابق جو سب سے اہم ہو اور ان جذبات کے مطابق جو سب سے مقدس ہوں فیصلہ کر دیتا ہے۔اور دوسری مصلحتوں اور دوسرے جذبات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔“ جنگ کے آغاز کے بعد حضور نے خطبات کے ایک سلسلے میں مختلف عوامل کا جائزہ اور موازنہ بیان فرمایا۔اور فرمایا کہ اس جنگ میں اہلِ ہند کا انگریزوں کے ساتھ تعاون کرنا ضروری ہے۔کیونکہ اب یہ بات واضح ہے کہ انگریز اس ملک کو آزادی دیتے جائیں گے لیکن اگر ان کے دشمن غالب آگئے تو ایک تو مظالم کا دور شروع ہو جائے گا اور دوسرے آزادی کا عمل بھی تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔(۲۴) اور یہ کہ انگریز اپنی مخالف اقوام کی نسبت محکوم اقوام سے بہتر سلوک کرتے ہیں۔اور ان کے تحت علاقوں میں تبلیغ کی آزادی زیادہ ملتی ہے اور یہ مذہبی معاملات میں کم سے کم مداخلت کرتے ہیں۔(۲۵) ہندوستان میں حکومت کی طرف سے جبری بھرتی نہیں کی جا رہی تھی۔جو فوج میں بھرتی ہوتا تھا