سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 567 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 567

567 بہت تھے لیکن عملاً بہت کم لوگوں نے بیعت کی تھی۔مگر اب بیعت کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔۱۹۶۲ ء کے آخر تک گیمبیا میں احمدیوں کی تعداد ۵۰۰ تک پہنچ چکی تھی۔گو اس سے قبل فاریمان سنگھائے صاحب احد یہ مشن سے تعلق رکھتے تھے اور مشن میں منعقد ہونے والی قرآن کلاس میں بھی آتے رہے تھے۔مئی ۱۹۶۳ء میں آپ با قاعدہ بیعت کر کے میں داخل ہو گئے۔اور ۱۹۶۵ء میں آپ جماعت احمد یہ گیمبیا کے صدر مقرر ہوئے۔ابتداء میں مکرم چوہدری محمد شریف صاحب کا حلقہ تبلیغ زیادہ تر بانجل اور اس کے نواح تک محدود تھا۔گو کہ اس دوران بھی دوسرے ذرائع سے ملک بھر میں جماعت کا پیغام پہنچ رہا تھا۔بانجل سے دور کچھ مقامات مین جن میں جارج ٹاؤں بھی شامل تھا کچھ لوگ بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو چکے تھے۔۱۹۶۳ء میں آپ نے ملک کے دوسرے مقامات کے دوروں کا آغاز کیا۔سب سے پہلے آپ دریائی جہاز پر سفر کر کے مشرقی سرحد پر واقعہ قصبے بصے (Basse) پہنچے اور وہاں پر احمدیت کا پیغام پہنچایا۔اس کے بعد آپ نے جارج ٹاؤن، ساپو (Sapo) ، مانسا کونکو (Mansakonko)، فیرافینی کے دورے کئے۔ان دوروں میں مقامی احباب بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ان دوروں کا بہت اچھا نتیجہ برآمد ہوا اور ان علاقوں میں بھی احمدیت کا بیج بویا گیا۔(۵ تا ۷ ) بڑھتے ہوئے کام کے ساتھ اس بات کی ضرورت تھی کہ مقامی احباب بھی آگے آکر تبلیغ کا کام سنبھالیں اور اسے وسعت دیں۔مکرم مولا نا محمد شریف صاحب نے ۱۹۶۳ء میں کیمبین احمدیوں کو اس فریضہ کی طرف توجہ دلائی۔اس تحریک پر سب سے پہلے احمد گئی (Gaye) صاحب اور مکرم عبد القادر جکنی ( Jikni) صاحب نے لبیک کہا۔مکرم احمد گئی صاحب کو بانجل کے نواح میں مبلغ مقرر کیا گیا۔مکرم عبد القادر جکنی صاحب پہلے جماعت کے مخالف علماء میں سے تھے۔آپ کے سپر دشمالی علاقے کئے گئے۔وقف کے بعد آپ نے نہایت اخلاص اور مستقل مزاجی سے اپنے عہد کو نبھایا اور اللہ تعالیٰ نے خلافت رابعہ تک آپ کو شاندار خدمات کی توفیق عطا فرمائی۔مسجد اور مشن ہاؤس جماعت کی تبلیغی اور تربیتی مساعی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔وقت کے ساتھ بانجل کا مشن ہاؤس لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا تھا۔سارا سال مختلف زائرین مشن ہاؤس آتے اور جماعت احمدیہ کے متعلق معلومات حاصل کرتے۔ان زائرین میں عام لوگوں کے علاوہ