سلسلہ احمدیہ — Page 568
568 وزراء، کونسلرز مجلس قانون ساز کے ممبران ، اور حکومتی افسران بھی شامل تھے۔ایک مرتبہ سینیگال کے سفارتکار ، دو بڑے علماء کے ہمراہ ملنے آئے۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ احمدی لوگ جو قرآنِ کریم شائع کرتے ہیں ان میں مَا كَانَ مُحَمَّدُ أَبَا أَحَدٍ آبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللهِ تو شائع کیا جاتا ہے لیکن وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ کے الفاظ حذف کر دئیے جاتے ہیں۔مکرم مولانا محمد شریف صاحب نے اسی وقت جماعت کے شائع کردہ انگریزی ترجمہ قرآن میں سے یہ آیت نکال کر سامنے رکھ دی۔جب انہوں نے اس نسخے میں وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ کے الفاظ دیکھے تو ہنس کر کہنے لگے کہ یہ ہمارے علماء بڑے بے ایمان ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔اُس وقت نظام تعلیم پر مکمل طور پر عیسائی مشنریوں کا قبضہ تھا اور وہ دنیاوی تعلیم کی آڑ میں عیسائیت کی تبلیغ بھی کرتے تھے۔جس سے بہت سے مسلمان کم علمی کے باعث متاثر ہو جاتے تھے۔یکم جون ۱۹۶۳ء کو بانجل سے آٹھ میل کے فاصلے پر جسونگ کے مقام پر گیمبیا کے پہلے احمد یہ مدرسہ کا آغاز ہوا۔پہلے سال میں چالیس طلباء اور طالبات داخل ہوئے۔ایک مراکشی احمدی الحاج محمد امین الحسینی اس میں مدرس کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ایک سال بعد اسے بند کر دیا گیا تا کہ اس کی جگہ ایک سکول قائم کر کے اس میں دیگر مضامین کے ساتھ عربی اور اسلامیات کی تعلیم بھی دی جائے (۴)۔بہت سے احمدی والدین اپنے بچوں کو اسلامی ماحول میں تعلیم دلانے کے لئے انہیں بو ( سیرالیون ) کے اسکول بھجوا دیتے تھے۔اس طرح ابتدائی احمدیوں کے بچے جماعتی ماحول میں تعلیم پانے لگے۔ہمسایہ ممالک میں جماعت کے اسکولوں کی نیک شہرت گیمبیا بھی پہنچ چکی تھی۔ایک مرتبہ ملک کے وزیر زراعت نے جو کہ غیر احمدی مسلمان تھے مولا نا محمد شریف صاحب کو کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے بیٹے کو بو کے احمد یہ اسکول میں پڑھنے نکے لئے بھجوا دوں کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ آپ کا ماحول اسلامی ہے اور میں اپنے بیٹے کو صحیح اسلامی رنگ میں ڈھالنا چاہتا ہوں۔۱۹۶۴ء کے آغاز میں گیمبیا میں پہلے احمد یہ ہائی اسکول کا افتتاح عمل میں آیا اور اس طرح یہاں پر جماعت کی تعلیمی خدمات کا آغاز ہوا۔(۲) مکرم مولا نا محمد شریف صاحب تین سال سے گیمبیا میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔