سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 566 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 566

566 آغاز کیا گیا۔یہ مشن ہاؤس شہر کے وسط میں تھا۔وہاں پر بہائیوں کا سینٹر بھی قائم تھا۔(۳۲) گیمبیا میں احمدیوں کے علاوہ دیگر مسلمانوں کو بھی دینی تعلیم کی اشد ضرورت تھی۔مکرم چوہدری محمد شریف صاحب نے قرآنِ کریم ناظرہ پڑھانے کے لئے کلاس کا آغاز کیا۔اس میں احمدیوں کے علاوہ غیر احمدی مسلمان بھی شامل تھے۔تین ماہ کے عرصہ میں بیس سے زاید بالغ افراد نے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا سیکھا۔ان احباب میں لامین بارا انجائے صاحب اور الحاج فار یمانگ سنگھاٹے صاحب بھی شامل تھے۔دو تین ماہ میں جماعت کا ایسا تاثر پیدا ہو چکا تھا کہ جب عید الاضحیٰ کا دن آیا تو بہت سے غیر احمدیوں نے بھی احمدیوں کے ساتھ نماز عید ادا کی۔جب مکرم چوہدری محمد شریف صاحب گیمبیا پہنچے تو صرف باتھرسٹ (موجودہ بانجل ) میں ہی جماعت قائم تھی۔چند ماہ کے قیام کے بعد آپ نے باتھرسٹ کے نواح میں واقعہ دیہات اور قصبوں میں دورے کر کے احمدیت کا پیغام پہنچایا۔آہستہ آہستہ آپ کی تبلیغی کاوشوں کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا۔جون ۶۱ میں آپ نے ویسٹرن ڈویژن کا تبلیغی دورہ کیا۔اس کے ساتھ مختلف سکولوں میں لیکچروں کا سلسلہ بھی کامیابی سے شروع کیا گیا۔اور اس کے ساتھ ا انگریزی میں پمفلٹوں کی اشاعت کا آغاز ہوا۔ان پمفلٹوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام اہلِ گیمبیا تک پہنچایا گیا تھا۔وہاں پر بہائی بھی کام کر رہے تھے چنانچہ ایک پمفلٹ Discovery of Bahaism بھی شائع کیا گیا۔پہلے سال میں ہی کرامیہ کی دکان پر احمد بیر بک ڈپو قائم کیا گیا۔بعد میں اسے مشن ہاؤس منتقل کر دیا گیا (۴)۔ان مساعی کے نتیجہ میں پڑھے لکھے لیمبین حضرات میں بھی جماعت احمدیہ میں دلچسپی پیدا ہو رہی تھی۔چنانچہ ۱۹۶۱ء میں ہی جسٹس آف پیں الحاج عثمان ناجی بیعت کر کے میں داخل ہوئے۔غیر احمدی مسلمانوں میں سے بہت سے جماعت کی کاشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔چنانچہ غیر احمدیوں کی طرف سے منعقد کئے گئے جلسہ سیرت النبی صلے میں جماعت احمدیہ کے مبلغ کو بھی تقریر کی دعوت دی گئی۔دوسری طرف بعض دوسرے عناصر کی طرف سے جماعت کی مخالفت کا بھی آغاز ہو رہا تھا۔چنانچہ ایک سوڈانی عالم محمد احمد منگتا نے جماعت کی مخالفت شروع کر دی۔(۲) لیکن اس کے باوجود ایک ایک کر کے سعید روحیں احمدیت کو قبول کر رہی تھیں۔چوہدری محمد شریف صاحب کی آمد سے پہلے جماعت کے مداح تو