سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 559 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 559

559 عبدالرحمن انور صاحب یا حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ حضور کو ڈاک پڑھ کر سنا تیں اور حضور پیش ہونے والے معاملات پر اپنے ارشادات املاء فرماتے۔آخری سالوں میں زیادہ تر حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ ہی حضور کی خدمت میں ڈاک پیش کرتیں۔بیماری کے آغاز میں مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب یا مولوی یعقوب صاحب حضور کے بیان فرمودہ درسوں سے مرتب نوٹ حضور کو پڑھ کر سناتے رہے۔حضور نے سورۃ بقرۃ پر یہ درس اپنے زمانہ خلافت کے آغاز پر قادیان میں دیئے تھے۔۱۹۶۲ء میں یہ مرتب کردہ نوٹس دسمبر ۱۹۶۲ء میں سورۃ بقرۃ کے دسویں رکوع سے لے کر اس سورۃ کے آخر تک کی تفسیر کی صورت میں شائع ہوئے۔حضور اپنی علالت کے باعث ان مسودات پر نظر ثانی نہیں فرما سکے تھے۔شام کے وقت حضور کار میں ربوہ کے قریب احمد نگر سیر کے لئے تشریف لے جاتے اور وہاں پر کرسی پر رونق افروز رہتے۔مکرم میر داؤ د احمد صاحب ، مکرم سید عبدالرزاق شاہ صاحب ، مکرم غلام محمد صاحب اختر ، حضرت مرزا عزیز احمد صاحب اور بعض دیگر بزرگان حضور کے ہمراہ احمد نگر تشریف لے جاتے۔یوں تو حضور کی علالت ہر وقت تمام احمدیوں کے دلوں کو غمزدہ کر رہی تھی لیکن جلسے کے ایام میں یہ دکھ پہلے سے بہت بڑھ جاتا۔جب ہزاروں کی تعداد میں عشاق ربوہ میں جمع ہوتے اور حضور کا خطاب سننے سے محروم رہتے۔یہ احباب قطاروں کی صورت میں حضور کے کمرہ میں زیارت کے لئے حاضر ہوتے اور سلام کر کے رخصت ہو جاتے۔ان حالات میں حضور کے چہرہ مبارک کی زیارت ان احباب کے لئے تسکین کا باعث ہوتی۔اکتوبر ۱۹۶۲ء میں ڈنمارک کے مشہور ڈاکٹر ، ڈاکٹر میتھی سن صاحب کو حضور کے علاج کے لئے ربوہ بلایا گیا۔یہ صاحب فزیو تھراپی کے ماہر تھے۔مالش اور ورزشیں شروع کرائی گئیں تاکہ جو کمزوری شروع ہو گئی تھی اور جو مفتی حضور کے گھٹنوں میں پیدا ہو گئی تھی اس کو دور کیا جاسکے۔پہلے تو کچھ افاقہ ہوا مگر پھر نہ صرف کہ مزید فائدہ نہ ہوا بلکہ کمزوری میں اضافہ شروع ہو گیا اور ان ورزشوں سے حضور تکلیف محسوس فرماتے تھے۔کنیڈا کے ایک ماہر ڈاکٹر کو حضور کی بیماری کی تفاصیل بھجوائی گئیں اور انہوں نے انہی خطوط پر علاج جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب