سلسلہ احمدیہ — Page 558
558 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیماری کی شدت میں اضافہ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے، قاتلانہ حملہ کے بعد اور پھر بیماری کے حملے کے نتیجے میں حضور کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔یورپ سے واپسی پر طبیعت قدرے بہتر تھی۔ڈاکٹروں کی ہدایت تھی کہ حضور زیادہ سے زیادہ آرام فرما ئیں اور آپ کو ہر قسم کے تفکرات سے بچایا جائے۔جب ۱۹۵۶ء میں جماعت میں فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی گئی تو حضور نے با وجود علالت کے اس کی سرکوبی فرمائی۔اس کے بعد تفسیر صغیر کو مکمل کرنے کے لئے حضور نے دن رات کام فرمایا اور اس غیر معمولی محنت سے بھی آپ کی صحت پر اثر پڑا اور آپ کی کمزوری میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔۱۹۵۷ء میں آپ نے مسجد مبارک ربوہ میں خطبہ عید الفطر اور عید الاضحی ارشاد فرمایا ،۱۹۵۸ء میں آپ نے مری میں عید الاضحی کی نماز پڑھائی اور خطبہ ارشاد فرمایا اور ۱۹۶۰ء کی عید الفطر کے موقع پر پر نماز مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب نے پڑھائی اور خطبہ حضور نے ارشاد فرمایا۔حضور نے ۱۹۶۰ء کی مجلس شوری کا افتتاح فرمایا اور افتتاحی دعا بھی فرمائی۔مگر اس سال مجلس شوری کے اختتامی اجلاس میں حضور شرکت نہیں فرما سکے۔اس کے بعد منعقد ہونے والی مجالس مشاورت کی صدارت حضور کے حکم کے ماتحت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمائی اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات کے بعد یہ فرض حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے ادا کیا۔دسمبر ۱۹۶۰ء میں منعقد ہونے والے والے جلسہ سالانہ کا افتتاح حضور نے فرمایا اور افتتاحی تقریر بھی فرمائی۔مگر اختتامی اجلاس میں حضور ناسازی طبع کے باعث تشریف نہیں لا سکے اور حضور کے حکم کے تحت مکرم مولا نا جلال الدین صاحب شمس نے حضور کی تحریر فرمودہ تقریر پڑھ کر سنائی۔اس کے بعد حضور جلسہ سالانہ میں شرکت نہیں فرما سکے۔ان بیماری کے ایام میں حضور کا کمرہ قصر خلافت کی دوسری منزل کے ایک کمرے میں تھا۔اور حضور کا دفتر بھی حضور کے کمرے کے قریب ہی تھا۔اسی کمرے میں حضور ڈاک ملاحظہ فرماتے۔یا بیماری کے آغاز میں اپنے دفتر تشریف لے جا کر کچھ دیر کام فرماتے۔پرائیویٹ سیکریٹری مکرم