سلسلہ احمدیہ — Page 560
560 نے کلکتہ کے ایک ماہر ہومیو پیتھ ڈاکٹر سے رابطہ فرمایا اور ان کا مجوزہ علاج بھی شروع کیا گیا۔اور کچھ دیسی ادویات بھی استعمال کی گئیں۔۱۹۶۲ء کے دوران اور ۱۹۶۳ء کے شروع میں حضور کی بیماری کی کیفیت تقریباً ایک جیسی رہی ، نہ تو بظاہر کوئی ترقی محسوس ہوئی اور نہ ہی کوئی کمی محسوس ہوئی۔ستمبر ۱۹۶۳ء میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات کا حضور کی طبیعت پر بہت گہرا اثر پڑا۔اور حضور کو بے چینی کی تکلیف زیادہ ہوگئی۔۔پھر جلسہ سالانہ کے بعد آپ کو انفلوائنزہ کا شدید حملہ ہوا۔اور اس سے کمزوری میں اضافہ ہو گیا۔۱۹۶۳ء میں حضور کے علاج کی نگرانی کے لئے چار ڈاکٹروں کا ایک بورڈ قائم کیا گیا۔اس بورڈ نے طے کیا کہ کراچی کے اعصابی امراض کے مشہور ماہر ڈاکٹر ذکی حسن صاحب ہر ماہ آکر حضور کو دیکھتے رہیں اور علاج تجویز کریں۔چنانچہ مکرم ڈاکٹر ز کی حسن صاحب کے زیر نگرانی علاج شروع ہوا۔اس سال ہو میو پیتھ ڈاکٹروں کے ایک وفد نے حضور کا معائنہ کیا اور ایک مشہور طبیب حکیم محمد نبی خان صاحب جو دہلی کے نامور طبیب ،حکیم اجمل خان صاحب کے پوتے تھے، نے بھی حضور کا معائنہ کر کے کچھ ادویات تجویز کیں۔حضور ان دنوں میں بھی اپنی بیماری کے باوجود جماعتی فرائض ادا فرمار ہے تھے۔حضور جماعت کے نام پیغامات خود املاء فرماتے تھے، صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید کی طرف سے پیش ہونے والے امور کے علاوہ دیگر اہم امور بھی حضور کی خدمت میں پیش کئے جاتے اور حضور ان پر مناسب احکامات صادر فرماتے۔جن گزارشات کی منظوری عطا فرمانی ہوتی حضور ان کو منظور فرماتے اور جن کو نامناسب خیال فرماتے انہیں نا منظور فرما دیتے۔۱۹۶۴ء میں مارچ سے جون تک حضور کی طبیعت قابل تشویش حد تک خراب رہی اور کراچی سے مکرم ڈاکٹر ذکی حسن صاحب اور لا ہور سے دو اور ماہرین بلوائے گئے۔انہوں نے کچھ ٹیکے شروع کرائے جن سے حالت سنبھلنی شروع ہوئی۔انہی دنوں میں اس قسم کی بیماری کے لئے رومانیہ میں ایک دوائی کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔اس دوائی کے موجد ڈاکٹر اینا آسلان صاحب سے رابطہ کیا گیا اور ان کے مشورے کے بعد اس دوائی کے ٹیکوں کے کورس شروع کرائے گئے۔ان کے استعمال کے بعد حضور کی علامات میں بہتری شروع ہوئی۔لیکن ڈاکٹر اینا آسلان صاحب کا خیال تھا کہ چونکہ حضور کی بیماری لمبی ہوگئی ہے اس لئے اس دوائی کو لمبا عرصہ استعمال کرنا پڑے گا۔نومبر ۱۹۶۵ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی وفات تک حضور کی طبیعت میں