سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 45 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 45

45 کہ وہ اس تنازعہ کا فریق بن جائے گا۔(۵) اس رؤیا سے معلوم ہوتا تھا کہ اٹلی اور برطانیہ ایک دوسرے کے مقابل پر آئیں گے۔جبکہ اسی ماہ اٹلی اور برطانیہ کی حکومتوں نے آپس میں معاہدہ کیا تھا۔اور برطانیہ کی حکومت نے ایسے سینیا پر اٹلی کے تسلط اور سپین میں اٹلی کے عمل دخل کو قبول کر لیا تھا۔اور اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے چرچل جیسے ذہین سیاستدان اس معاہدے سے پوری طرح متفق تو نہیں تھے مگر کھلم کھلا اس کی مخالفت کرنے سے بھی گریز کر رہے تھے کیونکہ ان کو امید تھی کہ اس معاہدے سے اٹلی کی طرف سے تنازع کے بگڑنے کے امکانات کم ہو جائیں گے اور اٹلی جرمنی پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسی ترک کر دے۔(۵) مختصراً یہ کہ اس بات کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے تھے کہ پوری دنیا جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گی اور کروڑوں انسان اس کا شکار ہو جائیں گے۔البانیہ پر قبضہ: ۱۹۳۹ء کے شروع ہونے کے بعد یورپ میں حالات مزید تیزی سے تبدیل ہونے لگے۔جرمنی نے چیکوسلاویکا پر قبضہ کر لیا۔اور ۲۵ مارچ کو اٹلی نے البانیہ کوالٹی میٹم دیا اور ۷ را پریل ۱۹۳۹ء کی صبح کو اطالوی فوجیں البانیہ میں داخل ہونا شروع ہوئیں اور کچھ جھڑپوں کے بعد البانیہ پر قبضہ ہو گیا۔اس سے قبل بھی البانیہ کو اٹلی کی زیر حفاظت ریاست (protectorate) کی حیثیت حاصل تھی مگر اب یہ رہی سہی آزادی بھی ختم ہو گئی۔البانیہ کے بادشاہ کو فرار ہوکر لندن میں پناہ لینی پڑی۔البانیہ کی ستر فیصد آبادی مسلمان ہے اور اس وقت ترکی کے علاوہ البانیہ یورپ کی واحد مسلم ریاست تھی۔اس دور میں گنتی کے مسلم ممالک آزاد رہ گئے تھے اور اب ان میں سے ایک اور کی آزادی کا سورج غروب ہو گیا تھا۔یہ صورت حال کسی المیہ سے کم نہیں تھی۔(۶) اس قبضے کے دو روز بعد حضور نے مجلس مشاورت سے اختتامی خطاب میں جرمنی کی نازی اور اٹلی کی فاشسٹ حکومت کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا آج حالات دنیا میں اس قدر سرعت سے تبدیل ہورہے ہیں کہ ہمارا آنکھیں بند کر کے بیٹھ جانا بے وقوفی ہے۔ہر طرف سے مسلمانوں کو پیسا جارہا ہے اور ان پر عرصہ حیات