سلسلہ احمدیہ — Page 44
44 اور انگریز علاقے کو مشرق میں دکھایا گیا تھا جب کہ اصل میں برطانیہ اٹلی کے مغرب میں ہے۔دراصل اس میں جنگ کے انجام کی طرف اشارہ تھا کیونکہ علم العبیر کی رو سے مشرق اقبال پر دلالت کرتا ہے اور مغرب بدبختی اور عاجزی کو ظاہر کرتا ہے۔(۳) آپ کی طبیعت پر اس رویا کا اتنا اثر تھا کہ آپ نے اس وقت بیدار ہو کر تلاوت شروع کر دی۔آپ کی حرم حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ تحریر فرماتی ہیں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ اس تڑپ سے تلاوت کر رہے تھے کہ لگتا تھا کہ آپ کا دل پھٹ جائے گا اور آپ کی فریاد عرشِ الہی کو ہلا دے گی۔(۴) آپ نے ۱۹۳۸ء کی مجلس شوریٰ میں یہ رویا بیان فرما کر جماعت کو دعاؤں کی طرف توجہ دلائی۔اب ہم ذرا ٹھہر کر جائزہ لیتے ہیں کہ جس وقت حضور نے یہ رویا بیان فرمائی اور یہ رویا مشاورت کی رپورٹ میں شائع بھی ہوئی اس وقت بین الاقوامی حالات کیا منظر پیش کر رہے تھے۔کیا اس وقت حالات کا رخ دیکھنے سے اس بات کے کوئی امکانات نظر آرہے تھے کہ جلد دنیا ایسی خوفناک جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی جس کی نظیر تاریخ میں نہ ملتی ہو۔یہ ٹھیک ہے کہ اس وقت جرمنی کی فوجی قوت میں اضافے کی وجہ سے یورپ کے سیاسی افق پر تناؤ کی کیفیت تھی اور ۱۹۳۸ء کے آغاز میں آسٹریا پر جرمنی کے قبضے کی وجہ سے اس تناؤ میں اضافہ ہو گیا تھا۔اس وقت برطانیہ اور فرانس یہ تو محسوس کر رہے تھے کہ جرمنی کی طاقت میں اضافہ کوئی خوشکن پیش رفت نہیں ہے۔لیکن اس بات کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے تھے کہ دوسری جنگِ عظیم جیسی آفت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔انہی دنوں میں برطانوی وزیر اعظم چیمبر لین اس امید کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ ابھی جرمنی سے معاہدہ ہونے کی امید رکھتے ہیں۔اور اس کے کئی ماہ کے بعد انہوں نے جرمنی جا کر چیکوسلاویکا کے مسئلے پر ہٹلر سے مذاکرات بھی کئے تھے اور بظاہر مفاہمت کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے۔جولائی ۱۹۳۸ء میں برطانوی وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ یورپ کی کوئی بھی حکومت جنگ کی خواہاں نہیں ہے۔بلکہ اگلے سال مارچ تک بھی برطانیہ کے ہوم سیکر یٹری یہ تقریر کر رہے تھے کہ وہ پر امید ہیں کہ امن کے پانچ سالہ منصوبے کے بعد ایک سنہرے دور کا آغاز ہوگا۔اور جرمنی سے ایک تجارتی معاہدے کی باتیں ہو رہی تھیں۔برطانیہ اور فرانس کی حکومتیں اس وقت جنگ کے امکانات کو زیر غور لانے کو بھی تیار نہیں تھیں اور امریکا کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا