سلسلہ احمدیہ — Page 534
534 قوانین کو ایک ریزولیوشن کی صورت میں تیار کرے اور پھر اسے مجلس شوریٰ میں پیش کیا جائے۔چنانچہ ۱۹۵۷ء کی مجلس شوری میں مکرم و محترم مولانا عبد العطاء صاحب نے اس ریزولیوشن کو پیش کیا، یہ اجلاس حضرت مصلح موعودؓ کی صدارت میں منعقد ہوا۔سب سے پہلے حضور نے دعا کروائی۔اس کے بعد مکرم مولا نا عبد العطاء صاحب نے ریزولیوشن پیش کرنے سے قبل ایک تقریر کی جس میں خلافت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد کچھ شواہد پیش کئے جن سے پتہ چلتا تھا کہ ابھی بھی ایک گروہ نظام خلافت کے خلاف فتنہ پروریوں میں مصروف ہے۔مکرم مولا نا صاحب نے فرمایا، حضور نے واضح فرمایا ہے کہ خلیفہ خدا ہی مقرر فرماتا ہے۔اس کے لئے کوشش کرنا نا جائز ہے۔خلافت ایک مقدس امانت ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ وقت آنے پر نئے خلیفہ کا انتخاب کرے۔لیکن ان جاہ طلب اور فتنہ پرداز لوگوں کو مایوس کرنے اور جماعتی اتحاد کو مستحکم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ابھی سے خلافت کے انتخاب کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ کرے۔“ بعدہ قواعد انتخاب خلافت جو مجلس علماء سلسلہ نے تجویز کیے تھے مجلس شوری کے سامنے پیش کیے گئے ان قواعد میں ایک بنیادی قانون بھی پیش کیا گیا اور وہ یہ کہ آئندہ خلافت کے انتخاب کے لئے یہی قانون جاری رہے گا۔سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوریٰ میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوریٰ کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔اس پر رائے شماری سے قبل حضور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض جماعتوں نے اپنے نمائندوں سے قسمیں لی ہیں کہ وہ شوریٰ میں اس ریزولیوشن کی تائید کریں۔اور اس کے خلاف ووٹ نہ دیں۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ ہم نے تو اپنے ایمان کی بناء پر اور یہ بتانے کے لئے کہ ہمیں خلافت کے ساتھ وابستگی ہے اور ہم خلافت احمدیہ کو کسی صورت میں تباہ نہیں ہونے دیں گے اس ریزولیوشن کی تائید کرنی تھی۔لیکن ہوا یہ ہے کہ جماعتوں نے ہم سے اس بات کے متعلق حلف لیا ہے کہ ہم ضرور اس ریزولیوشن کی تائید کریں۔اس طرح گویا ہمارے ثواب کا راستہ بند ہوتا ہے اور ہم اپنے اخلاص کا اظہار نہیں کر سکتے۔حضور نے فرمایا کہ ان کی یہ بات معقول ہے اس لئے میں انہیں اس حلف سے آزاد کرتا ہوں۔خلافتِ احمدیہ کو خدا نے قائم کرنا