سلسلہ احمدیہ — Page 535
535 ہے۔اگر کوئی شخص اپنے ایمان میں کمزور ہے اور وہ کوئی ایسا راستہ کھولتا ہے جس کی وجہ سے خلافت احمد یہ خطرہ میں پڑ جاتی ہے تو اس کے ووٹ کی نہ خلافت احمدیہ کو ضرورت ہے اور نہ خدا کو ضرورت ہے۔حضور نے واضح فرمایا کہ اس ریزولیوشن کے بعض حصے ایسے ہیں جن پر آئندہ زمانوں میں دوبارہ غور کی ضرورت ہو گی۔لیکن جب تک کوئی دوسرا ریزولیوشن منظور نہیں ہو گا اس وقت تک یہ ریز ولیوشن قائم رہے گا۔شوری کے اس اجلاس میں تمام جماعتوں کے ۳۲۱ نمائیندگان موجود تھے۔ان سب نے اس ریزولیوشن کے حق میں رائے دی۔چنانچہ ۱۹۶۵ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے وصال پر خلافت ثالثہ کا انتخاب ان قواعد کے تحت ہوا اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے وصال پر خلافت رابعہ کا انتخاب بھی انہی قواعد کے مطابق ہوا۔خلافت رابعہ کے دور میں ۱۹۸۴ء اور ۱۹۹۶ء میں جیسا کہ ہم ذکر کریں گے بعد میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی منظوری سے ان قوانین میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں لیکن بنیادی طور پر انہی قوانین کے تحت خلافت ثالثہ ،خلافت رابعہ اور پھر خلافتِ خامسہ کا انتخاب عمل میں آیا۔یہ حضرت مصلح موعود کا ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے کہ حضور نے انتخاب خلافت کے جو قوانین مقرر فرمائے ، وہ نظام اتنا با برکت ثابت ہو ا۔۱۹۵۶ء کا فتنہ بہت سے پہلؤوں سے جماعت کے لئے ایک تکلیف دہ واقعہ تھا مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو خلافت کی برکات کو جاری رکھنے کے لئے ایک مستقل نظام عطا ہوا۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ارشاد فرمایا تھا، وقت کے ساتھ ان قواعد میں کچھ تبد یلیاں کی گئیں۔۱۹۸۴ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو ہجرت کر کے لندن آنا پڑا۔اُس وقت حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ یہ خطرہ پیدا ہوا کہ اگر ان حالات میں انتخاب خلافت کا وقت آ جائے تو مخالف احمدیت عناصر اس کاروائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔اس لئے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ارشاد پر انتخاب خلافت کا ادارہ پاکستان سے باہر منتقل کر دینے کی عملی شکل کے بارہ میں مشورہ پیش کرنے کے لئے لاہور میں ایک خصوصی مجلس شوری کا اجلاس بلایا گیا۔یہ مجلس شورٹی اسی مسئلہ پر غور کرنے کے لئے بلائی گئی تھی۔اس مجلس شوری کی رپورٹ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی خدمت میں پیش کی گئی۔اس پر حضور نے بعض اور پہلوؤں