سلسلہ احمدیہ — Page 533
533 احمدیہ احمد یہ تحقیق کے بعد ان کے اسماء کا اعلان کرے گی۔(۹) حضرت مسیح موعود کے وہ صحابہ جن کا ذکر حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۱ء سے قبل کی کتب میں فرمایا ہے اگر وہ زندہ نہیں ہیں ، ان کا بڑا بیٹا بھی اس مجلس کا رکن ہو گا۔ان کے ناموں کا اعلان صدر انجمن احمد یہ کرے گی (۱۰) ایسے تمام مبلغین سلسلہ جنہوں نے کم از کم ایک سال بیرونِ ملک کام کیا ہو اور انہیں کسی الزام کے تحت فارغ نہ کیا گیا ہو۔(۱۱) ایسے تمام مبلغین سلسلہ جنہوں نے پاکستان کے کسی صو بہ یا ضلع میں رئیس التبلیغ کے طور پر کم از کم ایک سال کام کیا ہو اور انہیں کسی الزام کے تحت فارغ نہ کیا گیا ہو۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ جو ممبران حاضر ہوں گے وہ انتخاب کرنے کے مجاز ہوں گے۔غیر حاضر افراد کی غیر حاضری انتخاب پر اثر انداز نہ ہوگی۔انتخاب خلافت کے مقام اور وقت کا اعلان کرنا مجلس شوری کے سیکریٹری اور ناظر اعلیٰ کی ذمہ داری ہوگی۔نئے خلیفہ کا انتخاب چوبیس گھنٹے کے اندر ہونا چاہئیے۔مجبوری کی صورت میں زیادہ سے زیادہ تین دن کے اندر انتخاب ہونا ضروری ہے۔اس دوران صدر انجمن احمد یہ پاکستان جماعت کے جملہ کاموں کو سرانجام دینے کی ذمہ دار ہوگی۔اگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زندگی میں یہ انتخاب ہو تو وہ اس انتخاب کی صدارت کریں گے۔ورنہ ناظران یا وکلاء میں سے سب سے سینیئر اس کی صدارت کریں گے۔اجلاس شروع ہونے سے قبل اس مجلس کا ہر رکن مجوزہ حلف اُٹھائے گا اور جب خلافت کا انتخاب عمل میں آجائے گا تو منتخب شدہ خلیفہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ لوگوں سے بیعت لینے سے قبل یہ حلف اُٹھائے۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ میں خلافتِ احمدیہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافتِ احمدیہ کے خلاف ہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کے لیے پوری کوشش کرونگا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا۔اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور قرآن شریف اور حدیث کے علوم کی ترویج کے لیے جماعت کے مردوں اور عورتوں میں ذاتی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوشاں رہوں گا۔حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے ایک مجلس علماء سلسلہ بھی مقرر فرمائی جو انتخاب خلافت کے