سلسلہ احمدیہ — Page 525
525 پر ظاہر ہو گئی تھی بلکہ یہ بھی نظر آرہا تھا کہ وہ تنہا ہیں اور کوئی احمدی اُن کا ساتھ دینے کو آمادہ نہیں۔حقیقت پسند پارٹی کے نام پر وجود میں آنے والے اس گروہ کا کام تھا کہ وہ جماعت احمد یہ اور اس کی مقدس ہستیوں کے خلاف نہایت بخش الزامات پر مشتمل لٹریچر شائع کرتا۔ان کا لٹریچر اس قدر غلیظ ہوتا کہ کوئی شریف آدمی اسے دہرا بھی نہیں سکتا۔یہ لٹریچر احمدیوں اور غیر احمدیوں میں تقسیم کیا جاتا اور اس پر کبھی ساگر ہوٹل لاہور اور کبھی لٹن روڈ لاہور کا ایڈریس تحریرہ ہوتا۔اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یہ پخش الزامات پڑھ کر کوئی احمدی اشتعال میں آئے اور انہیں اس بہانے جماعت احمدیہ کے خلاف از سر نو فتنہ بھڑ کانے کا بہانہ ملے۔ان کا خیال تھا کہ وہ یہ ہتھکنڈے استعمال کر کے اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن یہ گروہ بھی جلد خائب و خاسر ہو گیا۔اس پارٹی کی پشت پناہی بھی بیرونی ہاتھ کر رہا تھا۔اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے ہو سکتا ہے۔ایک بار مکرم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب ابن حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مری میں ایک ہومیو پیتھ ڈاکٹر صاحب سے ملے اور اُس سے کچھ تبلیغی گفتگو ہوئی۔پھر ان ڈاکٹر صاحب نے لاہور میں صاحبزادہ صاحب کی ایک ریستوران میں دعوت کی۔اور کہا کہ ایک اور صاحب بھی احمدیت میں دلچسپی رکھتے ہیں، آپ سے ملواتا ہوں۔اس پر ایک شخص آیا اور کہا کہ میں راحت ملک ہوں۔یہ وہی صاحب تھے جن کا نام حقیقت پسند پارٹی کے سیکریٹری کی حیثیت سے شائع ہوتا تھا۔اس پر صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب نے کہا کہ میں آپ سے ملنا نہیں چاہتا اس لئے یا تو آپ یہاں سے چلے جائیں یا میں چلا جاتا ہوں۔اس پر وہ چلے گئے۔ایک دو دن میں ہی اخبار نوائے پاکستان میں خبر شائع ہوئی کہ مرزا محمود نے مخالف گروپ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔اور ان کے پوتے مرزا انس احمد نے حقیقت پسند پارٹی کے سیکریٹری راحت ملک صاحب سے ملاقات کر کے یہ پیشکش کی ہے کہ وہ صلح کر لیں۔(۶۵) جب صاحبزادہ صاحب واپس ربوہ پہنچے تو بس کے اڈے پر مولانا محمد شفیع صاحب اشرف آپ کے منتظر تھے اور کہا کہ حضور نے آپ کو بلایا ہے۔صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب نے سارا واقعہ حضور کی خدمت میں عرض کر دیا۔حضور نے اسی وقت ارشاد فرمایا کہ لاہور جا کر ان ڈاکٹر صاحب کی گواہی لے آئیں چنانچہ اسی وقت لاہور جا کر ان ڈاکٹر صاحب کی تحریری گواہی لے لی گئی۔یہ مد نظر رہنا چاہئیے کہ اس وقت حضور ایک خطر ناک علالت سے نکلے تھے اور ڈاکٹروں نے