سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 526 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 526

526 آپ کو ہر حال میں آرام کا مشورہ دیا تھا۔لیکن جب اس فتنے نے سراٹھایا تو آپ نے اپنا آرام ترک کر کے دن رات اس فتنے کی نگرانی فرمائی اور سر کو بی فرمائی۔جب حضور پر بیماری کا حملہ ہوا تو یورپ جانے سے قبل حضور کی طبیعت اتنی علیل تھی کہ حضور نمازیں اور جمعہ پڑھانے بھی نہیں آسکتے تھے۔جو گر وہ جماعت میں تفرقہ پیدا کرنا چاہتا تھا اس نے خیال کیا کہ اُن کی کاروائیوں کے لئے مناسب ترین وقت آ گیا ہے۔اور انہوں نے برملا اس بات کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ حضور کی صحت بحال ہونا اب ممکن نہیں اور جو پیغام حضور کے نام سے شائع ہورہے ہیں ان کو بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب درست کر کے شائع کرواتے ہیں (اے )۔لیکن یورپ پہنچ کر حضور کی صحت تیزی سے بہتر ہونی شروع ہوگئی اور واپس آکر حضور نے نہ صرف خود اس فتنے کی نگرانی فرمائی بلکہ چند ماہ میں تفسیر صغیر مکمل کرنے کا عظیم الشان کام بھی چند ماہ میں مکمل فرمایا لیکن جب حضرت خلیفہ مسیح الثانی کی بہتر صحت کی خبریں یورپ سے موصول ہو رہی تھیں تو یہ گروہ ان خبروں کو خود ساختہ خیال کر کے اپنی سازش کو آگے بڑھانے میں مشغول تھا۔اور حضور کی آمد تک یہ معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا تھا کہ اسے واپس لینا ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔اخراج از نظام جماعت کے بعد ان لوگوں کے سامنے ایک سیدھا راستہ کھلا تھا کہ وہ حضور سے معافی کے طلبگار ہوتے اور جو مختلف شہادتوں میں ان پر الزامات لگائے گئے تھے ان کی وضاحت پیش کرتے یا سابقہ حرکات پر تو بہ کر کے یقین دلاتے کہ آئندہ وہ اس قسم کی حرکات کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ان میں ایسے مفسدین بھی شامل تھے جو پہلے حضور کو معافی کا خط لکھتے اور لکھتے کہ وہ کچھ اور لوگوں کے بہکانے میں آگئے تھے، لیکن اس سے مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ کچھ دیر جماعت میں رہ کر اپنا کام جاری رکھ سکیں کیونکہ کچھ ہی عرصہ بعد وہ صاف انکار کر دیتے کہ ہم نے تو کوئی معافی مانگی ہی نہیں تھی اور پھر اپنی شرارتیں شروع کر دیتے (۷۲)۔لیکن اس کی بجائے کہ حضور کی خدمت میں خط لکھا جاتا یا کسی جماعتی دفتر کو لکھا جاتا مولوی عبدالمنان عمر صاحب نے کوہستان جیسے اشد مخالف اور فتنہ پرور اخبار میں اپنا ایک خط شائع فرمایا جس پر سرخی تھی ، قادیانی خلافت سے دستبرداری اور اس میں لکھا کہ میں خلافت احمد یہ پر ایمان رکھتا ہوں۔اور یقین رکھتا ہوں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور معزول نہیں ہو سکتا۔ایک خلیفہ کی زندگی میں یہ کہنا