سلسلہ احمدیہ — Page 520
520 اگر کوئی دوست میری نسبت ایسے خیال کا اظہار کرتا ہے کہ خلیفہ کی موجودگی میں یا اس کے بعد یہ شخص خلافت کا مستحق ہے تو میں اس کو بھی لعنتی سمجھتا ہوں۔اسی طرح جو پیغامی یہ کہتے ہیں کہ جماعت مبایعین حضرت خلیفہ اول کی ہتک کرتی ہے۔میں اس کو بھی جھوٹا سمجھتا ہوں۔گزشتہ میں سال میں میں دیکھ چکا ہوں کہ پیغامی جماعت حضرت خلیفہ اول کی ہتک کرتی رہی ہے۔اور مبایعین ان کا دفاع کرتے رہے ہیں۔تو اس کے بعد ہر احمدی سے کہہ سکتے تھے کہ اب ہم اور کیا طریق اختیار کریں۔(۵۵) اس خطبہ میں حضور نے اس فتنہ میں ملوث افراد کو ایک بڑی سیدھی راہ دکھائی تھی جس پر چل کر وہ اگر چاہیں تو اپنی بریت کا سامان کر سکتے تھے۔اور اپنی سابقہ غلطیوں کے ازالے کی کوشش کر سکتے تھے۔کیونکہ اگر وہ یہی سمجھتے تھے کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں کسی دوسرے شخص کو آئندہ خلافت کے لئے مستحق قرار دیا جا سکتا ہے یا اُن کا یہی خیال تھا کہ پیغامیوں کا یہ پراپیگنڈا کہ جماعت احمدیہ مبایعین حضرت خلیفہ اول کی تو ہین کرتی رہی ہے تو ویسے ہی ان کا جماعت احمد یہ مبایعین کے عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اگر ایسا نہیں تھا تو پھر مذکورہ بالا بیان کے اظہار میں کوئی تاخیر یا تردد نہیں ہونا چاہیے تھا۔اس پر عمل کرنے کی بجائے مولوی عبد المنان صاحب عمر نے پیغامیوں کے اخبار پیغام صلح میں اپنا ایک اعلان شائع فرمایا جس میں قولِ سدید سے کام لینے کی بجائے یہ عبارت بھی درج تھی۔میرا یہ عقیدہ ہے کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے لئے تجویز خواہ وہ اُس کی وفات کے بعد کیلئے ہی کیوں نہ ہو حتما نا جائز ہے خلافتِ حقہ اپنے ساتھ بے انتہا برکتیں رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اُس کے اوپر ہوتا ہے۔وہ جماعتی اتحاد و ائتلاف کے قیام اور الہی نور کے اظہار کا ذریعہ ہے۔لیکن جو خلافت منصوبوں ،سازشوں ، اور چالبازیوں اور ظاہر یا مخفی تدبیروں سے قائم کی جائے وہ اپنی ساری برکتیں کھو دیتی ہے۔اسے اقتدار یا حکومت کا نام تو دیا جا سکتا اسے یزیدی خلافت تو کہا جاسکتا ہے لیکن وہ خلافتِ راشدہ نہیں ہوسکتی۔نہ اس کی برکات سے اسے حصہ ملتا ہے۔اس کے بعد انہوں نے تحریر کیا کہ میرا اس قسم کی سازشوں سے کوئی تعلق نہیں۔یہ ذومعنی بیان اس طریق کے مطابق ہر گز نہیں تھا