سلسلہ احمدیہ — Page 519
519 ہیں۔ربوہ ٹیشن پر مسٹر عبد المنان عمر کے حامیوں نے ان کا پر جوش خیر مقدم کیا اور مسٹر عبدالمنان کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا۔اور مزید لکھا کہ جلد مرزا محمود کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے والی ہے۔وغیرہ وغیرہ۔اس خبر کو لکھتے ہوئے اس اخبار نے جھوٹ بولنے کے اپنے ہی قائم کردہ سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے۔لیکن یہ ضرور ظاہر ہوا جاتا ہے کہ مخالفین سلسلہ اس فتنہ سے کیا کچھ امیدیں وابستہ کئے بیٹھے تھے۔مولوی عبد المنان صاحب کے سامنے ایک راستہ کھلا تھا کہ وہ خلافت سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتے اور جوان کا نام لے کر منافقین پراپیگنڈا کر رہے تھے اور اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ آئندہ خلیفہ انہیں ہونا چاہئیے اس سے اظہار بیزاری کرتے اور اخبارات میں ان کا نام لے کر جو پیگنڈا کیا جا رہا تھا اس کی بھی واضح تردید کرتے۔مگر اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔۴ استمبر کو حضور نے مری میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا موجودہ فتنہ میں بھی یہ راستہ کھلا تھا کہ وہ لوگ جنہوں نے اس میں حصہ لیا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے کہ الہی ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ان دنوں جماعت سے بعد اختیار کیا ہے ان میں سے صرف ایک شخص ایسا ہے جس نے صحیح راستہ اختیار کیا ہے۔باقی کسی نے بھی صحیح طریقہ اختیار نہیں کیا۔اس نے پہلی توبہ کی مگر جب اس سے کہا گیا تمہاری توبہ کا کیا اعتبار ہے تو اس نے جھٹ ایک مخالف اخبار کے بیان کی تردید لکھ کر اسے بھجوا دی کہ مجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا گیا اور میرے بیوی بچے بھی میری تحویل میں ہیں۔اور پھر اس کی ایک نقل الفضل میں بھی بھجوا دی اور لکھا کہ میں احمدیت پر قائم ہوں یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ مجھ سے میرے بیوی بچے چھین لئے گئے ہیں۔مگر باقیوں کو یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ یہی طریقہ اختیار کرتے۔۔۔۔اگر یہ لوگ سیدھی طرح صداقت اختیار کر لیں تو نہ کوئی سزا رہتی ہے اور نہ جماعت سے اخراج کا کوئی سوال رہتا ہے۔اگر ایک شخص الفضل والوں کو اپنے دستخطوں کے ساتھ یہ لکھ کر بھجوا دیتا ہے کہ میرے متعلق جو یہ کہا جاتا ہے کہ میں خلافت کا امیدوار ہوں یہ بالکل جھوٹ ہے۔ایک خلیفہ کی موجودگی میں میں خلافت کے امیدوار پر لعنت بھیجتا ہوں۔اور