سلسلہ احمدیہ — Page 521
521 جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا تھا۔اس میں واضح موقف بیان کرنے کی بجائے دوسروں کو خوش کرنے کے راستے کھلے رکھے گئے تھے تبھی انہوں نے بخوشی اسے شائع کر بھی دیا تھا۔لیکن وقت گذرتا گیا اور انہوں نے اس طریق پر عمل نہیں کیا جو حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا تھا۔مولوی عبد المنان صاحب اور ان کے ساتھی حضور کی طرف سے دی جانے والی مہلت کا بھی کوئی فائدہ نہیں اُٹھا رہے تھے۔اس دوران یعنی ستمبر اور اکتوبر کے مہینے میں ان کی پشت پناہی والے اخبارات کی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ دو تین مفسدین کے نام سے خطوط شائع کر رہے تھے کہ ہمارے پر ظلم کیا جا رہا ہے اور ہمارا سوشل بائیکاٹ کر کے ہمارا جینا محال کر دیا گیا ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے جو لوگ ربوہ سے باہر رہ رہے تھے ان کا یہ کہنا کہ احمدیوں نے ہمارا سوشل بائیکاٹ کر کے ہم پر بہت ظلم کیا ہے ایک بے معنی بات تھی کیونکہ ربوہ سے باہر پاکستان میں احمدی تو فقط دو تین فیصد تھے وہ اس پوزیشن میں ہی نہیں تھے کہ کسی کا سوشل بائیکاٹ کریں بلکہ انہیں تو اقلیت ہونے کے ناطے خود بارہا سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔(۵۶) ہاں اتنا ضرور تھا کہ اس فتنے میں ملوث کچھ اشخاص کے والدین اور بھائیوں نے اس بات کی شہادت دی تھی کہ یہ لوگ شرارتوں میں ملوث ہیں اور ان سے قطع تعلق کر لیا تھا۔اور یہ لوگ ربوہ سے باہر رہتے تھے اور اس طرح اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کسی نا جائز دباؤ کے تحت کیا تھا۔(۵۸،۵۷) کسی شخص کو یہ مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ اگر اُس کا کوئی قریبی رشتہ دار مفسد ہو اور اُسے تکلیف پہنچائے اور جن شخصیات سے وہ عقیدت رکھتا ہے انہیں سب وشتم کا نشانہ بنائے تو وہ اس سے ضرور تعلق رکھے۔یہ مفسد کوئی شیر خوار بچے تو نہیں تھے کہ اگر اُن کے والدین یا بھائیوں نے اُن سے قطع تعلق کر لیا تو ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو گئے۔اور پاکستان کے بہت سے اخبارات جو اس پر سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے وہ خود معمولی رقوم لے کر روزانہ تھوک کے حساب سے اشتہارات شائع کرتے تھے کہ فلاں نے اپنے بیٹے کو نا فرمانی کی وجہ سے عاق کر دیا یا اُس سے قطع تعلق کر لیا۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ خلاف توقع ان اخبارات کو ایسے چند احمدی بھی نہیں مل رہے تھے جو انہیں اظہارِ مظلومیت سے بھر پور خطوط مہیا کریں تا کہ انہیں ان اخبارات کی زینت بنایا جائے کہ