سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 461 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 461

461 کر دیا کہ خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے اور جب خلیفہ غلطی کر سکتا ہے تو پھر اس کے حکم کی اطاعت ضروری ں ہے۔جب حضور کو اس فتنہ کی اطلاع ملی تو آپ نے مشرقی بنگال کے احمدیوں کے نام ایک خط تحریر فرمایا جو الفضل میں بھی شائع کیا گیا۔اس میں حضور نے تحریر فرمایا د مجھے حال ہی میں ایک رپورٹ ملی ہے کہ برہمن بڑیہ کے دولت احمد خان اور ڈھا کہ کے شاہجہان صاحب چند دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس خیال کو ہوا دے رہے ہیں۔چونکہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے اس لئے اس کی اطاعت لازمی حکم کا درجہ نہیں رکھتی۔اگر یہ صحیح ہے تو پھر یہ بھی صحیح ہے کہ صوبائی امیر محمد صاحب ڈھاکہ کے شاہجہان صاحب اور برہمن بڑیہ کے دولت احمد صاحب بھی غلطی کر سکتے ہیں۔سو برادران جب صورت یہ ہے کہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے، صوبائی امیر غلطی کر سکتا ہے ،شاہجہان صاحب غلطی کر سکتے ہیں۔دولت احمد صاحب غلطی کر سکتے ہیں تو پھر اس صورت میں خلیفہ کی آواز کو لازماً فوقیت دینی پڑے گی کیونکہ وہی ایک ایسا شخص ہے کہ جسے ساری جماعت منتخب کرتی ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ یہ مذکورہ بالا حضرات ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ چونکہ خلیفہ غلطی کر ہے۔اس لئے وہ جماعت کے افراد سے یہ توقع نہیں رکھ سکتا کہ وہ اس کے احکام کی تعمیل کریں۔لیکن دوسری طرف وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر چند کہ وہ خود بھی غلطی کر سکتے ہیں تاہم ان کی رائے خلیفہ اور اسکے مشیروں پر فائق سمجھی جانی چاہئیے۔اس لئے ان کے اپنے خیال میں انہیں اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ خلیفہ کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں کہ چونکہ وہ غلطی کر سکتا ہے اس لئے اسے جماعت سے اطاعت کی توقع رکھنے کا حق حاصل نہیں۔اور یہ کہ جہاں تک اطاعت کی توقع رکھنے کا سوال ہے۔یہ صرف بنگال کے صوبائی امیر کا حق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔یاد رکھو کہ یہ لوگ تمہارے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں اور تمہیں صدیوں تک کے لئے اس طرح تباہ کرنا چاہتے ہیں جس طرح کہ ماضی میں مسلمان تباہی سے دوچار ہوئے۔(۱۴) اس خط میں حضور نے بنگال کے احمدیوں کو تلقین فرمائی کہ اگر وہ اپنے مرکز اور خلیفہ سے محبت رکھتے ہیں تو وہ حتمی طور پر ان معترضین سے اپنا تعلق ختم کر لیں اور ان سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہ سکتا۔