سلسلہ احمدیہ — Page 460
460 اُٹھی۔اسی وقت صدرانجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی طرف سے بکروں کی قربانی کی گئی اور جب حضور کی کار احاطہ مسجد مبارک کے گیٹ سے باہر نکلی ربوہ کی مقامی جماعت کی طرف سے بکروں کی قربانی کی گئی۔تمام راستوں پر خدام اپنے آقا کو الوداع کہنے کے لئے کھڑے تھے۔حضور قصر خلافت سے حضرت اماں جان کے مزار پر تشریف لے گئے اور کار میں بیٹھے ہوئے حضور نے دعا کی۔جب حضور کی گاڑی لاہور جانے والی پختہ سڑک پر پہنچی تو بہت سے احباب دوڑ کر اس سڑک کے کنارے جمع ہو چکے تھے۔۔اس کے بعد قافلہ لاہور کے لئے روانہ ہو گیا۔جب تک حضور کی کار نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی احباب پختہ سڑک کے کنارے کھڑے حضور کی کارکو دیکھتے رہے اور پھر دعائیں کرتے ہوئے واپس اپنے گھروں کولوٹے۔(۱۲) کچھ عرصہ لا ہور میں قیام کے بعد حضور کراچی تشریف لے گئے۔کراچی جا کر حضور کی خدمت میں ڈاکٹروں نے عرض کی کہ اگر حضور نماز جمعہ کے لئے مسجد تشریف لے جائیں لیکن خطبہ مختصر ارشاد فرما ئیں تو یہ حضور کی طبیعت کے لئے بہتر ہو گا۔چنانچہ حضور نے ۱۵ اپریل ۱۹۵۵ء کو جمعہ پڑھایا اور ایک مختصر خطبہ ارشادفرمایا۔اس میں آپ نے فرمایا چند دنوں کے اندر اندر ہم انشاء اللہ چلے جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کون ملے گا اور کون نہیں۔میں جاتے ہوئے جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس ایک ایسا خزانہ ہے۔جو کسی کے پاس نہیں ہے اور وہ خزانہ دعا کا ہے۔ہم نے ہمیشہ اس سے پہاڑ اُڑتے اور سمندر خشک ہوتے دیکھے ہیں۔اس خزانہ کو مضبوطی سے پکڑو اور ہاتھ سے جانے نہ دو۔(۱۳) بنگال میں چند معترضین کی طرف سے فتنہ : جب کراچی میں حضور اور آپ کے قافلے میں شامل احباب یورپ جانے کے لئے تیاری کر رہے تھے اور مخلصین جماعت دن رات اس سفر کی کامیابی اور حضور کی کامل شفا کے لئے دعا گو تھے تو منافقین کا ایک مختصر ٹولہ اس وقت اپنی ریشہ دوانیوں میں مشغول تھا۔اور حضور کی بیماری اور دورے کو اپنے لئے ایک نادر موقع خیال کر رہا تھا۔بنگال میں چند معترضین نے یہ پراپیگنڈا شروع