سلسلہ احمدیہ — Page 462
462 رکھیں۔آخر میں حضور نے تحریر فرمایا، د میں تم سے صرف یہ کہتا ہوں کہ خدا میرے ساتھ ہے۔اور جو کوئی بھی میرے خلاف اُٹھتا ہے وہ یقیناً خدا کی طرف سے سزا پائے گا۔اور اس کا اور اس کی پارٹی کا اثر ورسوخ اسے خدا کے غضب سے نہیں بچا سکے گا۔مخالف اخبارات کی فتنہ پردازی: جماعت کے مخالفین اس موقع پر بھی اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آئے۔پہلے ۱۹۵۳ء میں جماعت کے خلاف فسادات بر پاکئے گئے۔جب اس سے مقاصد حاصل نہیں ہوئے تو اگلے برس ۱۹۵۴ء میں حضور پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا۔اس کے ساتھ یہ افواہ پھیلائی گئی کہ جماعت احمدیہ میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور یہ قاتلانہ حملہ بھی ایک احمدی نے کیا تھا۔جب دونوں سازشوں میں ناکامی ہو گئی تو اب حضور کی بیماری کو اپنے لئے ایک موقع سمجھتے ہوئے اس گروہ نے ایک بار پھر اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔اس بار بھی کچھ اخبارات کو اپنا آلہ کار بنایا گیا۔اس سے پہلے بھی تحقیقاتی عدالت میں یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ جماعت کے مخالفین نے کئی اخبارات کو خرید کر انہیں جماعت کی مخالفت کی آگ بھڑ کانے کے لئے استعمال کیا تھا۔اب بھی کچھ اخبارات فتنہ انگیزی کی اس مہم میں پیش پیش تھے۔اور اس قسم کی خبریں شائع کر رہے تھے کہ امام جماعت احمد یہ اپنے تمام خاندان سمیت یورپ جا رہے ہیں۔اور اس وجہ سے احمدیوں میں شدید بد دلی اور مایوسی پھیل گئی ہے۔اور جماعت احمدیہ میں سازشوں کا جال بچھ گیا ہے اور مختلف گروہ جانشینی کے مسئلہ پر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں اور جماعت احمدیہ میں ایک مضبوط گروہ متوازی جماعت بنانے کی کوششیں کر رہا ہے جو اپنا ایک علیحدہ امیر منتخب کرے گا۔وغیرہ وغیرہ چنانچہ اخبار مغربی پاکستان نے یہ خبر شائع کی وو چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود کے اپنے خاندان سمیت کراچی پہنچنے کے بعد ربوہ میں مرزائیوں میں ایک عام مایوسی ، بد دلی اور ہیجان اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔اور سازشوں کا جال بچھ گیا۔اور مرزائیوں کی مختلف پارٹیاں اور افراد مرزا بشیر الدین محمود کی