سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 451 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 451

451 مگر اس فیصلے میں تو اقدام قتل کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔اور کہا گیا تھا کہ اس کا اقرار جرم اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مجرم شہید بنا چاہتا ہے۔مگر یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اگر مجرم شہادت کے لئے اتناہی بے قرار تھا تو وہ گرفتاری کے معاً بعد گونگا کیوں بنا رہا۔اپنی شناخت چھپانے کے لئے جھوٹ کیوں بولتا رہا۔اسے تو فوراً اقبالِ جرم کر کے سزائے موت کی درخواست کرنی چاہئیے تھی۔مگر اس کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء تو اس کی سزا میں تخفیف کے لئے کوشاں رہے۔اگر اس فیصلے کی منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ نتیجہ نکلے گا کہ اگر کوئی شخص مذہبی جنون یا جذبات کی وجہ سے قتل کرتا ہے تو اس کی سزا میں کمی کر دینی چاہئیے ، خواہ اس نے جرم با قاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعہ کیا ہو۔اقبال جرم اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ مجرم کے جرم کی نوعیت کو کم درجہ کے جرم میں تبدیل کر دیا جائے۔مختصر یہ کہ خفیف سزا دینے کے باوجود یہ فیصلہ مذہبی جنون کی آڑ میں قتل و غارت کی حوصلہ افزائی کے مترادف تھا اور اس کے بعد پاکستان میں یہ تاریخ بار بار دہرائی گئی۔اس کے نتیجے میں یہ قتل و غارت صرف احمد یوں تک محدود نہ رہی بلکہ پورے ملک میں رواداری اور امن و امان کا جنازہ نکل گیا۔اور اس المیہ میں عدلیہ کا وقار بھی محفوظ نہ رہا۔ہم بعد میں اس عمل کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔(۲۵،۲۴) اس فیصلہ میں ایک سے زیادہ جگہ جج نے مجرم کے اس فعل کو جائز قرار دینے کی کوشش کی۔جیسا کہ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے۔ملزم نے دل کی گہرائیوں سے سوچا کہ یہ تو ہین ہے ( یعنی تو ہین رسالت ہے ہے ) اور اس کی مناسب سزا ما سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ تو ہین کرنے والے کا خاتمہ کر دیا جائے۔اور پھر لکھا کہ ملزم کی بے پایاں محبت جو کہ اُس کو حضور اکرم ﷺ کے ساتھ ہے اور جو کہ اسے قدرت نے عطا کی اسی عقیدت نے اس اقدام کے لئے اس کی راہنمائی کی۔ان سطور میں مجرم کی مدح سرائی تو کی گئی ہے لیکن اس اہم امر کی وضاحت نہیں کی گئی کہ مجرم نے یا عدالت نے یہ نتیجہ کس طرح اخذ کر لیا کہ جس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے اس نے رسول کریم ﷺ کی تو ہین کی تھی۔اگر جرم کا محرک یہی امر تھا تو مجرم کو بتانا چاہیئے تھا کہ اس نے اس موقع پر دیکھا یا سنا تھا کہ توہین رسالت کی جا رہی ہے۔اور اس بات کو ثابت کرنا چاہیے تھا۔اس طرح ایک مفروضہ قائم کر کے جرم کو برحق قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔اور سب سے بڑا ظلم یہ کہ جو اُس دور میں