سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 452 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 452

452 رسول کریم ﷺ کا سب سے بڑا عاشق تھا اسی پر توہین رسالت کا الزام لگایا جارہا تھا۔حج نے ایک سال قبل احمدیوں کے خلاف بر پا ہونے والی شورش کا مختصر ذکر کر کے لکھا کہ ملزم کا ذہن اس سے متاثر ہو ا تھا اور پھر یہ رائے دی یہ پس منظر جرم کی اہمیت کو کم کر دیتا ہے اور خاص طور پر جس غیر پیشہ وارانہ انداز میں مجرم نے وار کیا اور جس صفائی سے اُس نے اقرار جرم کیا جسے اس اقرار کے بغیر ثابت کرنا مشکل تھا۔حقیقت یہ تھی کہ یہ وار انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں کیا گیا تھا۔ایک ہی وار میں حملہ آور تقریبا شہ رگ تک پہنچ گیا تھا۔اور گردن پر شہ رگ کے قریب اتنے گہرے زخم سے صرف یہ ہی نتیجہ نکالا جا سکتا تھا کہ مجرم کا رادہ قتل کا تھا۔اور یہ بات نا قابل فہم ہے کہ اگر کسی شورش سے متاثر ہو کر اقدام مقتل کیا جائے تو اس کی بنا پر مجرم رحم کا مستحق کس طرح ہو جاتا ہے۔فیصلہ کے اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جج کو حملہ آور سے پوری ہمدردی تھی۔اس ہمدردی کی وجہ بھی عیاں ہے۔حج نہ صرف جماعت احمدیہ کے عقائد سے اختلاف رکھتا ہے بلکہ اس اختلاف کو وہ اپنے عدالتی فرائض پر بھی اثر انداز ہونے کا موقع دے رہا ہے۔جیسا کہ فیصلہ میں لکھا گیا ، عقیدہ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور حضور اکرم ﷺ کے بعد ہر وہ شخص جس نے حضور کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اسے ہر ملک اور ہر دور میں مسلمانوں نے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔اسے نظر انداز کیا اور اس کے دعوے کا مضحکہ اڑایا۔حالانکہ پوری دنیا میں یہ ایک مسلمہ بات سمجھی جاتی ہے کہ عدالت کو غیر جانبدار ہونا چاہیے اور حج کے ذاتی خیالات، نظریات اور پسند اور نا پسند کو عدالتی فیصلہ یا عدالتی کاروائی پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئیے۔اور آئین پاکستان میں اعلیٰ عدالتوں کے لئے جو حلف رکھا گیا ہے اُس میں یہ عہد بھی شامل ہے کہ حج کے ذاتی موافقانہ یا مخالفانہ خیالات اس کے فرائض منصبی کی ادائیگی کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے۔فاضل جج نے اپنے فیصلے میں نہ صرف جماعت احمدیہ اور حضرت بانی سلسلسہ احمدیہ کے عقائد سے اختلاف کیا بلکہ انہیں مضحکہ خیز بھی قرار دیا۔ایسی صورتِ حال میں حج کو غیر جانبدار نہیں قرار دیا جاسکتا۔