سلسلہ احمدیہ — Page 450
450 چند ہی سطروں کے بات حج کو یہ لکھنا پڑا کہ ملزم کے دوسرے وار سے قتل کرنے کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملزم خود یہ اقرار کر رہا ہے کہ اس نے قتل کرنے کے ارادہ سے وار کیا تھا۔اس کے بعد ارادہ قتل پر شک کرنے کا جواز باقی نہیں رہتا۔عبد الحمید کو پانچ سال قید با مشقت سنائی گئی۔اگر چہ جج نے مجرم کو سزا سنائی لیکن فیصلے کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جج نے یہ سزا صرف مجرم کے اقبالِ جرم کی وجہ سے صرف مجبوری میں دی تھی اور نہ بیج اس کے فعل کو ایک طرح حق بجانب سمجھتا تھا۔جیسا کہ حج نے اپنے فیصلے میں لکھا۔چونکہ ملزم نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس کا ارادہ قتل کرنے کا تھا لہذا میرے لئے اس کے سوا چارہ کار نہیں کہ میں ملزم کو ۳۰۷ تعزیرات پاکستان کا مجرم قرار دوں۔“ اور سزا دیتے ہوئے جج نے ملزم پر نرمی کرنے کا ہر ممکن جواز پیدا کرنے کی کوشش کی اور فیصلہ کے آخر پر لکھا اب میں سزا سنانے کے مشکل سوال کی طرف آتا ہوں ملزم ابھی چھوٹی عمر سے تعلق رکھتا ہے۔اور اقدام قتل کا مقصد نہ تو سیاسی ہے اور نہ مالی لالچ کی وجہ ہی ایسا کیا گیا ہے اور نہ ہی ذاتی انتقام کی خاطر یہ قدم اُٹھایا گیا ہے بلکہ اس کا مقصد خالصتاً مذہبی تھا اور یہ ایک مذہبی جنونی کی روح کی پکار ہے اور ایک عادی قاتل کا اقدام نہیں ہے۔اس لئے میرے خیال میں انتہائی سزا دینے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کا اقرار جرم اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مجرم شہید بننا چاہتا ہے۔اس فیصلہ سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت کے نزدیک اگر مذہبی اختلاف کی بنیاد پر قاتلانہ حملہ کیا جائے تو مجرم سے نرمی کا سلوک کرنا چاہئیے۔یہ رویہ تو مذہبی قتل و غارت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔اور اسی رویہ کی وجہ سے پاکستان میں مذہب کے نام پر قتل و غارت کا وہ طوفان برپا کیا گیا کہ پورے ملک کا امن برباد ہو گیا۔اکثر قاتل کوئی عادی قاتل نہیں ہوتے۔یہ ان کی زندگی کا پہلا اور آخری قتل ہوتا ہے لیکن مندرجہ بالا حوالے سے تو یہ لگتا ہے جیسے اگر کوئی پہلی مرتبہ اقدام قتل کرے تو اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز کر دینا چاہیئے۔عدالتوں کے ذریعہ دی جانے والی سزاؤں کا سب سے بڑا مقصد جرائم کی روک تھام ہوتا ہے