سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 418 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 418

418 نکلنے سے روک دیا۔تین احمدیوں کو شہید کیا جا چکا تھا اور ان میں سے ایک کی لاش کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔احمدیوں کی دوکانیں لوٹی جا رہی تھیں۔پنجاب کے گورنر اور وزیر اعلیٰ بجائے حالات سنبھالنے کے کراچی فون کر کے وزیر اعظم کو یہ اطلاع دے رہے تھے کہ حالات بہت خراب ہو چکے ہیں اور یہ اد فون کاٹے جا رہے ہیں۔اب شاید ہم بھی فون پر بات نہ کر سکیں۔اب لاہور کو بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ فسادیوں کے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں۔یعنی معصوم احمدیوں کو قتل کیا جا رہا تھا ، ان کی املاک کو لوٹا جا رہا تھا، ان کو مرتذ کرنے کے لئے وحشیانہ مظالم کئے جا رہے تھے اور بجائے ان کی حفاظت کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب وزیر اعظم کو مشورہ دے رہے تھے کہ احمدیوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر دینا چاہئیے۔اس کے ساتھ انہوں نے اپنی مرکزی حکومت کی اعلان کردہ پالیسی کے خلاف اعلان جاری کیا کہ انہوں نے احمدیوں کے خلاف مطالبات کو اپنی تائید کے ساتھ مرکزی حکومت کو بھجوایا ہے کہ کیونکہ یہ قوم کے متفقہ مطالبات ہیں۔اور یہ پر زور سفارش کی جا رہی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا جائے۔وزیر اعلیٰ دولتانہ صاحب کی چال یہ تھی کہ اس طرح وہ تحریک ختم نبوت کے ہیرو کے طور پر سامنے آئیں گے۔اور لوگوں کو یہ نظر آئے گا کہ ان کے دباؤ کے آگے مرکزی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔اور اس کے نتیجے میں وہ آسانی سے وزیر اعظم بن سکیں گے۔جیسا کہ انہوں نے تحقیقاتی عدالت کے روبرو اعتراف کیا کہ اس وقت وزیر اعظم سے ان کے تعلقات سخت کشیدہ ہو چکے تھے۔اور یہ مطالبہ بھی خوب تھا کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا جائے۔گویا اگر وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے صوبے کے حالات کو قابو کرنے کے اہل نہیں ہے تو اس کی پاداش میں وزیر خارجہ کو مستعفی ہو جانا چاہیئے۔لیکن ان کے اندازے غلط نکلے۔جس وقت انہوں نے وزیر اعظم سے فون پر بات کی ،اس وقت مرکزی کابینہ کا اجلاس ہو رہا تھا۔وزیر اعظم نے سراسیمگی کے عالم میں اپنے وزراء سے پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہئیے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تو اس موقع پر کچھ کہنا نہیں تھا۔مگر کا بینہ کے دیگر اراکین نے سخت رد عمل دکھایا۔اور کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے کہ جو ملک میں امن قائم رکھنے کے بھی قابل نہیں۔اور بجائے مطالبات تسلیم کرنے کے مضبوط اقدامات کے حق میں رائے دی۔اتنے میں گورنر پنجاب نے دباؤ ڈالنے کے لئے دوبارہ فون کیا کہ فوراً مطالبات تسلیم کئے جائیں ورنہ لا ہور