سلسلہ احمدیہ — Page 417
417 اچھا نمونہ دکھا رہے ہیں۔البتہ پنجاب کے بعض مقامات پر افسران بزدلی دکھا رہے ہیں اور لاہور سیالکوٹ اور لائل پور میں شورش زیادہ ہے۔حضور نے فرمایا ' آپ لوگ صبر سے کام لیں۔دعاؤں میں لگے رہیں۔فتنہ کی جگہوں سے بچیں۔ایک دوسرے کی خبر لیتے رہیں۔مرکز سے تعلق بڑھانا چاہئیے۔افسروں سے تعاون کریں۔اور خدا پر پورا تو کل کریں کہ جو آخر تک صبر سے کام لے گا اور ایمان پر قائم رہے گا ، وہی دائمی جنت کا وارث ہو گا۔اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے گا۔۔۔خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہارے لیے اُتر رہے ہیں اور اس کی نصرت بارش کی طرح برس رہی ہے۔جس کی آنکھیں ہیں وہ دیکھتا ہے اور جو اندھا ہے اسے تو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔(۱۰۵) مارچ کا فیصلہ کن دن : آخر چھ مارچ کا فیصلہ کن دن آ گیا۔اب تک تحریک چلانے والوں کی ذہنیت کھل کر سامنے آتی جا رہی تھی۔روزنامہ احسان اس تحریک کی پشت پناہی کرتا رہا تھا لیکن 4 مارچ کے اداریے میں وہ بھی جماعت احمدیہ کے خلاف تحریک چلانے والوں کے متعلق یہ لکھنے پر مجبور تھا۔ہم صاف صاف بتا دیں کہ یہ عناصر ہمارے ملک کے دشمن اور ہمارے دشمنوں کے دوست ہیں اور انہی کے اشارے پر یہ خونیں کھیل کھیل رہے ہیں۔(۱۰۶) سچ تو بولا گیا مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔حالات قابو سے باہر نکل چکے تھے۔یہ جمعہ کا روز تھا۔مسجد وزیر خان فساد کا مرکز بنی ہوئی تھی۔صبح سویرے تمام اطراف سے جلوس مسجد وزیر خان پہنچ رہے تھے۔حکومت کے دفاتر میں کام بند ہو گیا۔مزدور کام چھوڑ کر اس فتنے سے ہمدردی کرنے کے لئے باہر نکل آئے۔بلوائیوں نے کوتوالی کا محاصرہ کر کے مطالبہ شروع کر دیا کہ جن پولیس افسران نے گولی چلائی تھی انہیں ان کے حوالے کیا جائے۔پولیس نے اس بات کا اظہار شروع کر دیا کہ حکومت کی کمزور پالیسی پولیس کے حوصلوں کو پست کر رہی ہے۔صوبائی سیکریٹریٹ میں بھی ملازمین نے کام بند کر کے مطالبات کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیئے۔گورنر ہاؤس کی بجلی کاٹ دی گئی۔ریلوے کی پٹڑی توڑ دی گئی اور انجن شیڈ پر بلوائیوں نے قبضہ کر کے انجنوں کو