سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 419 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 419

419 راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔حقیقت یہ تھی کہ وہاں پر احمدیوں کے گھر اور دو کا نہیں جلائی جا رہی تھیں۔یہ صرف ملک کے ایک حصے کو یر غمال بنا کر اپنی مرضی کا فیصلہ کرانے کی کوشش تھی۔وزیر اعظم نے دفاع کے سیکریٹری کو ہدایت دی کہ لاہور میں جنرل اعظم صاحب سے رابطہ کر کے حالات معلوم کئے جائیں۔جنرل صاحب نے جواب دیا کہ حالات تو خراب ہیں لیکن اگر حکومت ہدایت دے تو فوج ایک گھنٹے میں حالات کو قابو کر سکتی ہے۔چنانچہ مرکزی حکومت کی ہدایت پر لاہور کے علاقے میں مارشل لاء کا نفاذ کر دیا گیا اور حالات تیزی سے معمول پر آنا شروع ہو گئے۔(۱۰۷) مارشل لاء کے نفاذ کے بعد : اس سے قبل تو شورش بر پا کرنے والے کہہ رہے تھے کہ وہ خون کے آخری قطرے تک جدو جہد کریں گے لیکن جب قانون نافذ کرنے والوں نے فساد کرنے والوں سے رورعایت بند کر دی تو لاہور میں جلد ہی ان کے حوصلے پست ہو گئے۔دوسرے انہیں یہ بھی نظر آ رہا تھا کہ اب عوام ان کی حمایت نہیں کر رہے۔ایجی ٹیشن کرنے والوں نے مساجد سے نکل کر گرفتاریاں دینی شروع کر دیں اور ۸ مارچ تک تو لاہور میں امن وسکون بحال ہو گیا۔(۱۰۸) مسجد وزیر خان اس فساد کو بر پا کرنے والوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔اور ادھر عبد الستار نیازی صاحب اشتعال انگیز کاروائیوں میں پیش پیش تھے۔جب انہیں یہ خطرہ دکھائی دیا کہ شاید انہیں گرفتار کر لیا جائے تو انہوں نے ایک استرے کی مدد حاصل کی۔کسی پر حملہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی داڑھی سے نجات حاصل کرنے کے لئے۔اس طرح وہ بھیس بدل کر کے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے مگر کچھ روز کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔اور سول اینڈ ملٹری گزٹ کی رگِ ظرافت پھڑ کی تو ان کی دو تصویریں Before اور After‘ کے عنوان کے ساتھ شائع کر دیں۔ایک میں موصوف ایک ضخیم داڑھی کے ساتھ تھے اور دوسری میں داڑھی غائب تھی۔(۱۰۹) مارچ کے بعد لاہور کے علاوہ پنجاب کے دوسرے مقامات پر کچھ روز تک فسادات ہوتے رہے۔مارچ کو جب دولتانہ صاحب کی اپیل ریڈیو پر نشر ہوئی تو اس سے پورے پنجاب میں یہ تاثر لیا گیا کہ حکومت نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، اور فسادات بالکل قابو سے باہر ہو گئے۔سیالکوٹ