سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 393 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 393

393 بھی نظر آئے۔جب اس پر بھی دل نہیں بھرا تو جلسہ گاہ میں داخل ہو کر فساد کی کوشش کی اور بجلی کے تار کاٹ دیئے۔اس پر پولیس نے انہیں جلسہ گاہ سے باہر نکال دیا تو پتھراؤ کا آغاز کر دیا گیا۔جب مقررین ، اسلام اور قرآن کریم کے فضائل بیان کر رہے تھے تو باہر ان اخلاق کا مظاہرہ ہو رہا تھا۔دوسرے روز جب پھر فسادات شروع ہوئے تو پولیس کو اشک آور گیس استعمال کرنی پڑی۔کراچی شہر میں بھی احمدیوں کی املاک پر کئی حملے کئے گئے اور بعض عمارات کو آگ لگا دی گئی۔(۵۷) جماعت کے خلاف شورش کا اصل چہرا اب واضح نظر آ رہا تھا۔بیرونی ہاتھ : اس واقعے کے بعد کراچی کے کمشنر نقوی صاحب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ احمدی بھی پاکستانی ہیں اور جب تک وہ قانون کی پابندی کرتے ہیں انہیں جلسے کرنے کا پورا حق ہے۔کراچی میں کسی آدمی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر امن شکنی کرے۔(۵۸) سول اینڈ ملٹری گزٹ اور ڈان جیسے اخبارات نے فساد کرنے والوں کی شدید مذمت کی اور حضرت چوہدری صاحب کی ذات پر حملوں کو شرمناک قرار دیا۔کراچی کے ایک ہفت روزہ سٹار نے ۲۴ مئی کی اشاعت میں۔ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا۔غیر ملکی ہاتھ ، کراچی کا بلوہ کس نے کرایا۔اس اشارے کا مطلب تھا کہ ان فسادات کے پیچھے کسی بیرونی طاقت کی سازش کارفرما ہے۔مئی ۱۹۵۲ء میں ہی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے ایک یادداشت بھجوائی جس میں اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ احرار آزادی کے معا بعد ایسے شخص سے ساز باز کر رہے تھے جو بعد میں بھارت چلا گیا۔اور اُس وقت بعض احراریوں کو کانگرس کے نمایاں سیاستدانوں نے جائیددا کی صورت میں فوائد بھی پہنچائے تھے۔(۵۹) بہتر فرقے اکھٹے ہوتے ہیں: ان واقعات کے بعد احرار نے اپنی کاوشوں کو مزید تیز کر دیا۔مخالفین نے مختلف فرقوں کے مولویوں اور مختلف مذہبی جماعتوں کے لیڈروں اور پیروں اور سجادہ نشینوں کے نام دعوت نامے جاری کئے کہ وہ ۱۳ جولائی ۱۹۵۲ء کو لاہور میں ایک کنونشن میں شرکت کریں تا کہ عقیدہ ختم نبوت کے