سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 394 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 394

394 لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔جب یہ کنونشن منعقد کیا گیا تو لاہور میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کی وجہ سے جلسوں کی ممانعت تھی مگر حکام نے عمداً اس کنونشن کو نہ روکنے کا فیصلہ کیا۔اس کنونشن کے شرکاء ایک دوسرے پر بھی کفر والحاد کے فتوے لگاتے رہے تھے لیکن اب وہ اس لئے جمع ہوئے تھے کہ سب مل کر احمدیوں کے خلاف فتوی لگائیں۔چناچہ ایک مجلس عمل کا قیام عمل میں آیا تا کہ آئیند ولائحہ عمل کا فیصلہ کیا جا سکے۔اس مرحلے پر ایک اعلیٰ افسر مسٹر قربان علی نے حکام کو لکھا:۔یہ سب حلقوں میں تسلیم کیا جا رہا ہے کہ احرار کو کسی نہ کسی سے مدد مل رہی ہے۔ان میں سے یا ان کی پشت پناہی کرنے والوں میں سے بعض لوگوں نے اپنی چالا کی کی وجہ سے یہ اندازہ کر رکھا ہے کہ وہ جماعتیں جو مذہبی کہلاتی ہیں ان میں سے کوئی ایسی احمق نہ ہوگی کہ جس مسئلے پر ہر مسلمان احمدیوں کے خلاف شدید ترین جذبات رکھتا ہے اس میں کسی سے پیچھے رہ جائیں۔۔۔۔اب وقت بالکل ضائع نہ کرنا چاہئیے۔یہ ایک دوڑ ہے جس میں حکومت کو سر توڑ مقابلہ کرنا ہے۔اس لئے اسے فی الفور آمادہ عمل ہونا چاہئیے۔اور حالات کو بگڑنے کا موقع نہ دینا چاہئیے۔(۶۰) اس مرحلے پر جب حکومت نے دفعہ ۱۴۴ کے ذریعہ جلسوں کو روکنے کی کوشش کی تو ان مفسدوں نے نماز جمعہ کے بعد مساجد میں اپنے جلسے کرنے شروع کر دیے تا کہ جب اُن کے خلاف کاروائی ہوتو اس بناء پر وہ لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں کہ حکومت قادیانیوں کی خاطر مسلمانوں کو مساجد کے اندر واعظ سے روک رہی ہے۔اب مساجد کے اندر اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔اور مساجد کے اندر جماعت کے خلاف نعرہ بازی کی جاتی اور لوگوں کو فساد پر آمادہ کیا جاتا۔اس طرح پاکستان میں مساجد کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا افسوسناک سلسلہ شروع ہوا جو بد قسمتی سے اب تک جاری ہے۔اب اس سازش کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا۔ہر کوئی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر اپنے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔(۶۱) ان دنوں مخالفین یہ الزام لگا رہے تھے کہ احمدی ملک میں سیاسی غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ، جبکہ اس شورش کی آڑ میں وہ خود سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔جولائی ۱۹۵۲ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے لندن کے ڈیلی میل کے نمائیندے کو انٹرویو دیتے ہوئے