سلسلہ احمدیہ — Page 392
392 احراری اپنے دلوں کی گہرائیوں میں اب تک پاکستان کے غدار ہیں۔(۵۵) کراچی میں جماعت احمدیہ کا جلسہ اور حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی تقریر: مئی ۱۹۵۲ء میں کراچی میں جماعت احمدیہ کا جلسہ تھا۔اور اس میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے بھی اسلام زندہ مذہب ہے' کے عنوان پر تقریر کرنی تھی۔ایک بار پھر مخالفین نے طوفان اُٹھا دیا کہ پاکستان کا وزیر خارجہ جماعت احمدیہ کے جلسے پر تقریر کیسے کر سکتا ہے۔وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ حضرت چوہدری صاحب جماعت کے جلسے پر تقریر کریں۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ اُس وقت بھی حکومتی پارٹی کے اہم اراکین جماعت کے خلاف ہونے والے جلسوں کی صدارت کر چکے تھے۔اُن کی طرف سے جماعت کے عقائد کے خلاف بیان بازی اس کے بعد بھی شدت سے جاری رہی۔اور تو اور ایک طبقہ جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سب سے پیش پیش تھے، سرکاری اموال کو جماعت کے خلاف تحریک چلانے والوں کی اعانت کے لئے بھی خرچ کر رہا تھا۔لیکن اگر اعتراض تھا تو چوہدری صاحب کی تقریر پر تھا۔حضرت چوہدری صاحب نے وزیر اعظم صاحب کو جواب دیا کہ اب تو میں تقریر کرنے کا وعدہ کر چکا ہوں لیکن اگر آپ کو یہ بات نا پسند ہے تو میرا استعفیٰ حاضر ہے۔اس تقریر میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بیان فرمایا کہ قرآن آخری الہامی کتاب ہے اور یہ عالم انسانیت کے لئے آخری ضابطہ حیات مہیا کرتا ہے۔اور اسلام کی ختمیت اور برتری بیان فرمائی۔اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے وعدے کے مطابق ایسے اشخاص آتے رہیں گے جو تجدید دین پر مامور ہوں۔اور تقریر کے آخر میں کہا کہ احمدیت ایک ایسا پودا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود لگایا ہے، اگر یہ پودا اکھیڑ دیا گیا تو اسلام ایک زندہ مذہب کی حیثیت سے باقی نہ رہے گا اور دوسرے مذاہب پر اپنی برتری کے ثبوت مہیا نہ کر سکے گا۔(۵۶) جیسا کہ توقع تھی مخالفین نے اس جلسے کے موقع پر بھی فتنہ وفساد بر پا کرنے کی کوشش کی۔جلسے کے ارد گرد بلوائیوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا۔اُنہوں نے آوازے کسے، گندی اور مخش گالیاں دیں، اشتعال انگیز نعرے لگائے ، تالیاں پیٹیں اور سیٹیاں بجائیں۔اس کے علاوہ ناچنے کودنے کے مناظر