سلسلہ احمدیہ — Page 304
304 نہیں کہہ سکتے کہ یہ منصفانہ ہے۔اور اس کے نتیجے میں بہت سے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔اور مجوزہ نقشے پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی ان خدشات کی تصدیق ہو جاتی ہے۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں اس لئے ہم اس کے حق میں رائے دیں گے۔ان کے خطاب کے بعد یہ اجلاس برخواست ہو گیا اور اقوام متحدہ میں اگلا دن تعطیل کا دن تھا۔اس ایک دن کے دواران کیا ہوا۔اس کا اندازہ ۲۸ اور ۲۹ نومبر کی کاروائی سے بخوبی ہو جاتا ہے۔۲۸ نومبر کا اجلاس شروع ہوتا ہے اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا خطاب: ۲۸ نومبر کی صبح تک یہ بات صاف نظر آ رہی تھی کہ بڑی طاقتیں ہر قیمت پر دو تہائی اکثریت حاصل کر کے رہیں گی۔خواہ اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے صبح گیارہ بجے اجلاس شروع ہوا۔جنرل اسمبلی کے صدر نے سب سے پہلے یہ اعلان کیا کہ چونکہ ممبران کی تمام تر توجہ اس مسئلہ پر غور و فکر کی طرف ہونی چاہئیے اس لئے تقریر کے دوران کسی قسم کا اظہار تحسین(Applause) نہیں ہونا چاہئیے۔صدر اسمبلی نے اجلاس اس کا روائی کے دوران کسی اور موقع پر نہیں کیا تھا۔اس احتیاطی تدبیر کے بعد انہوں نے کہا کہ اب میں پاکستان کے نمائندے کو تقریر کی دعوت دیتا ہوں۔اس پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب تشریف لائے اور آپ نے اپنی تقریر شروع کی۔گذشتہ کچھ ہفتوں سے اقوام متحدہ طرح طرح کی سازشوں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔بڑی طاقتوں نے ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا کہ اکثر ممالک ووٹ دیتے ہوئے اپنی ضمیر کی آواز نہ سنیں ، یہ نہ دیکھیں کہ انصاف کے تقاضے کیا ہیں بلکہ جس طرف ووٹ ڈالنے کے لئے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا اسی طرف ووٹ ڈالیں۔اُس وقت اقوام متحدہ اپنی زندگی کا آغاز کر رہی تھی اور یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ اگر یہی رنگ ڈھنگ رہا تو اس عالمی ادارے سے کسی خیر کی امید رکھنا عبث ہو گا۔بہت سے ممالک تو دباؤ میں آکر اپنی رائے بدل رہے تھے یا پھر خاموش رہنے میں عافیت سمجھ رہے تھے لیکن حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کسی لمبی چوڑی تمہید کے بیان پر وقت ضائع کئے بغیر اسی اہم نکتے سے اپنی تقریر کا آغاز