سلسلہ احمدیہ — Page 305
305 فرمایا۔آپ نے فرمایا جناب صدر یہ امر قابل اطمینان ہے کہ آپ اس کے مقصد لئے کوشاں ہیں کہ کم از کم یہاں پر اس سوال کے متعلق بغیر کسی خلل یا اثر اندازی کے بحث ہو۔کیا رائے شماری بھی اسی طرح آزادانہ اور بغیر کسی اثر اندازی کے ہوگی۔اب اس بارے میں کوئی اطمینان نہیں پایا جا تا۔میں اس پر زیادہ وقت نہیں لوں گا۔وہ لوگ بھی جو اس بات کا علم نہیں رکھتے کہ پس پردہ کیا ہورہا ہے ، پریس کے ذریعہ بہت کچھ جان چکے ہیں۔یہ تو صرف ایک مسئلہ ہے اب تو یہ اندیشہ جنم لے رہا ہے کہ جو عظیم ادارہ دنیا کے مستقبل کے لئے امیدوں کا مرکز بنا ہوا ہے ، اس عظیم ادارے میں جب بھی کوئی اہم مسئلہ پیش ہوگا اور اس پر سوچ بچار ہو گی تو اس عمل کو آزاد نہیں چھوڑا جائے۔یہ ایک اہم لمحہ ہے۔دنیا کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔اور اس عظیم۔۔کم از کم ہمیں اس معاملے میں پر امید رہنے دیں کہ یہ ایک عظیم ادارہ ہے ، اس عظیم ادارے کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے۔آج اقوام متحدہ کٹہرے میں کھڑی ہے۔اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیا یہ سرخرو ہو کر نکلتی ہے کہ نہیں۔شاید یہ پہلو اتنا اہم نہیں ہے کہ تقسیم منظور ہوتی ہے یا اس تجویز کو مسترد کیا جاتا ہے۔زیادہ اہم یہ سوال ہے کہ آیا اہم مسائل پر اپنے ضمیر کے مطابق دیانتدارانہ اور منصفانہ فیصلے کرنے کا کوئی امکان باقی رہا ہے کہ نہیں۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے فرمایا کہ عموماً ہم تاریخ کو ماضی میں پیچھے جاتے ہوئے پڑھتے ہیں۔یہ ایک غلط طریق ہے۔تاریخ کو ماضی سے حال کی طرف آتے ہوئے پڑھنا چاہئیے۔اس کے بعد آپ نے گذشتہ بیس سال کے حقائق کا مختصر جائزہ پیش فرمایا کہ کس طرح جب پہلی جنگِ عظیم کے دوران اتحادی ایک گھمسان کی جنگ میں الجھے ہوئے تھے ،انہوں نے عربوں کی مدد حاصل کرنے کے لئے کوششیں شروع کیں اور ان سے وعدہ کیا کہ جنگ کے بعد وہ اپنے اپنے ملکوں میں آزاد ہوں گے۔اور معاہدے کی رو سے عربوں کا جو فرض تھا انہوں نے ادا کر دیا۔اس کے بعد مغربی طاقتوں کے ایفائے عہد کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا