سلسلہ احمدیہ — Page 303
303 کافی تھا۔اگر انہیں حالات میں رائے شماری ہوئی تو دو تہائی ووٹ حاصل کرنا ناممکن نظر آ رہا تھا۔ہالینڈ کے نمائندے نے کہا کہ اُن کے نزدیک متحدہ فلسطین کی تجویز نا قابل عمل ہے۔پھر نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے سفیروں نے تقسیم کی حمایت میں تقریریں کیں۔اس کے بعد سوویت یونین کی طرف سے گرو میکو اپنی رائے کی وضاحت کے لئے آئے۔گرومیکو ایک بہت طویل عرصہ سوویت یونین کے وزیر خارجہ رہے اور ان کے گھاگ سیاستدانوں میں سے سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے تقسیم کے حق میں ایک طویل تقریر کی اور ابتداء ہی میں کہا کہ ہم نے پہلے بھی نشاندہی کی تھی کہ فلسطین کو ایک متحدہ ریاست کی شکل دی جاسکتی ہے اگر یہودی اور عرب آپس میں مل کر رہنے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن یہودی اور عرب دونوں ہی اس کے لئے تیار نہیں ہوئے۔یہ اُن کی غلط بیانی تھی کیونکہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی صدارت میں جو کمیٹی کام کر رہی تھی اور جس کی تجویز کو تمام عرب نمائندگان کی حمایت حاصل تھی اس نے تو یہی تجویز دی تھی کہ متحدہ فلسطین کی ریاست میں یہودی اور عرب برابر کے شہریوں کی حیثیت سے رہیں۔اور قانون میں اقلیت کے حقوق کی ضمانت دی جائے۔اس کے بعد گرومیکو نے اُن عرب ممالک پر شدید نکتہ چینی کی جنہوں نے اس مرحلہ پر سوویت خارجہ پالیسی پر تنقید کی تھی۔اور برطانیہ پر تنقید کی کہ وہ اپنی تمام ذمہ داریاں نہیں ادا کر رہا۔انہوں نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپ میں یہودیوں پر بہت مظالم ہوئے ہیں۔یہ بھی خوب دلیل تھی کہ یورپی ممالک میں یہودیوں پر مظالم کئے اور اس کی سز افلسطین کے باشندوں کو دی جارہی تھی۔گرومیکو کی تقریر کے بعد صدر نے رائے شماری کرائی کہ کیا مند و بین چاہتے ہیں کہ رات کو اجلاس کرایا جائے یا نہیں۔اور ساتھ یہ بھی بیان دیا کہ ابھی گیارہ مندوبین کی تقاریر باقی ہیں۔اور رائے شماری بھی ہوتی ہے۔اور Credential committe کی رپورٹ بھی پڑھی جانے ہے اور آخر میں سیکریٹری جنرل اور ان کی تقریر بھی ہونی ہے۔اکیس نمائیندوں نے کہا کہ رات کا اجلاس ہونا چاہیے اور چوبیس نمائیندوں نے کہا کہ اسے پرسوں صبح تک ملتوی کر دینا چاہئیے۔اس طرح رائے شماری ملتوی کر دی گئی۔اور بڑی طاقتوں کو کچھ اور ممالک کی رائے میں تبدیلی کے لئے ایک پورا دن مل گیا۔اس فیصلہ کے بعد بلجیم کے نمائندے نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ ہمیں اس تجویز کے متعلق بہت سے شبہات ہیں۔اور ہم یقین سے