سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 298 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 298

298 کر سکتے۔مگر فلسطین کے عربوں کے حقوق پامال کرتے ہوئے ہر بے سروپا بات کو دلیل بنالیا گیا تھا۔کینیڈا کے بعد یونان کے مندوب کو تقریر کے لئے بلایا گیا۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب حضرت چوہدری صاحب کی مرتب کردہ تجویز ایڈ ہاک کمیٹی میں پیش ہوئی کہ یہ سوال کہ اقوام متحدہ یہ فیصلہ کرنے کی مجاز بھی ہے کہ نہیں ، عالمی عدالت انصاف کی طرف بھجوانا چاہیئے تو یونان نے بھی اس کے حق میں ووٹ دیا تھا اور اس کے بعد جب یہ تجویز پیش ہوئی کہ فلسطین کو ایک ملک رہنا چاہئیے اور جب امریکہ اور روس کی تجویز پیش ہوئی کہ فلسطین کو دو آزا دریاستوں میں تقسیم کر دینا چاہئیے تو یونان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔اس لئے اب سب منتظر تھے کہ یونان اب کس طرح اپنے ووٹ کا استعمال کرے گا۔یونان کے نمائندے نے ایک بہت مختصر تقریر کی۔اور کہا کہ یونان کو یہ امید تھی کہ دونوں فریق کسی مفاہمت پر پہنچ جائیں گے اور اسی لئے اُس نے پہلے پیشل کمیٹی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اب یہ واضح ہے کہ دونوں فریق کسی مفاہمت پر نہیں پہنچ سکے اور عرب تقسیم فلسطین کی اس تجویز پر راضی نہیں ہیں اور یہ واضح ہے کہ اس کو منظور کرنے کے نتیجے میں بہت سے مسائل پیدا ہوں گے اور خون ریزی ہوگی۔اس لئے یونان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ تقسیم کی تجویز کی مخالفت میں ووٹ دے گا۔یونانی مندوب کا بیان تقسیم کی حامیوں کے لئے سخت دھچکا تھا۔اب یہ محسوس ہو رہا تھا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود ان کی تجویز دو تہائی حمایت حاصل کرتی نہیں نظر آ رہی۔جبکہ فریقین کے دلائل تفصیل سے سامنے آچکے تھے جنرل اسمبلی میں اُن کی بازی الٹتی نظر آ رہی تھی۔پھر برازیل نے حسب سابق تقسیم کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔زیادہ تر رائے شماری میں برطانیہ غیر جانبدار رہا تھا۔ابھی بھی اُس کے نمائندے نے یہی اظہار کیا کہ یہودیوں اور عربوں کے درمیان مفاہمت نہیں ہو سکی۔اور زبردستی کوئی حل مسلط نہیں کیا جا سکتا۔اس کے بعد تقسیم کے ایک مجوز امریکہ کے نمائندے کھڑے ہوئے اور اپنی تجویز کے حق میں دلائل پیش کئے۔ان کا موقف تھا کہ یہ ساری تجویز اقوام متحدہ کے عمل کے نتیجے میں تیار ہوئی ہے۔اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ اس مسئلہ پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہے کیونکہ جنرل اسمبلی اس بات کی مجاز ہے کہ وہ کسی مسئلہ کا پُر امن حل تجویز کرے۔اور فلسطین ایک ایسا علاقہ تھا جو زیر انتظام (Mandatory) تھا۔( مراد یہ تھی کہ لیگ آف نیشنز نے اسے اپنے زیر انتظام لیا تھا)۔اور یہ معاملہ بین الاقوامی نوعیت کا ہے داخلی معاملہ نہیں