سلسلہ احمدیہ — Page 297
297 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کی گئی ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے اس تجویز کو غیر قانونی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا۔کینیڈا کے سفیر نے تقسیم کی تجویز کی حمایت کی اور اس کی دو اہم وجوہات یہ بیان فرمائیں کہ اگر چہ برطانوی مینڈیٹ کے خاتمہ پر ایک متحدہ فلسطین ریاست کو اقتدار منتقل ہونا چاہیے تھا لیکن اس راستے میں مشکل یہ حائل ہے کہ بالفور اعلانیہ اور لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹ کے نتیجے میں لاکھوں یہودی فلسطین منتقل ہو گئے ہیں اور فلسطین میں چھ سوملین کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں اس لئے یہ حل قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔اور دوسری دلیل انہوں نے یہ بیان فرمائی کہ ابھی تو یہودیوں اور فلسطینیوں میں اس بارے میں بہت اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن اگر تقسیم کی تجویز کو قبول کر لیا جائے تو دونوں گروہوں کے لیڈروں کے دل بدلنے کے امکانات زیادہ ہوں گے کیونکہ دونوں عظیم ترین طاقتیں اس تجویز کی حمایت کر رہی ہیں۔اس تقریر کی منطق بھی خوب تھی۔یعنی وہ یہ کہہ رہے تھے کہ بڑی طاقتوں نے پہلا ظلم یہ کیا تھا کہ فلسطین کے باشندوں کی مرضی کے خلاف یہودیوں کو وہاں آباد کرنا شروع کیا۔جب وہ وہاں پہنچ گئے تو پہلے ظلم کو دوسرے ظلم کی دلیل بنالیا کہ اب کیونکہ یہ یہودی یہاں آگئے ہیں اور یہ تم سے امیر بھی زیادہ ہیں اور انہوں نے اس امارت کی بنا پر اتنے ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ، اس لئے اب ہمیں یہ اختیار ہے کہ تماری مرضی کے خلاف تمہارے ملک کے دو ٹکڑے کریں اور اچھا ٹکڑا یہودیوں کو دے دیں، اور کیونکہ بڑی طاقتیں تقسیم کی حمایت کر رہی ہیں اس لئے کوئی مسئلہ نہیں ہم بعد میں تمہارے لیڈروں کے خیالات کو بھی بدل دیں گے۔اور پھر اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے کینیڈا کے مندوب نے یہ موشگافی کی کہ آخر کار یہودی پہلے اس ملک کے باشندے تھے۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں خود کینیڈا کے باشندے اور امریکہ اور آسٹریلیا کے باشندے پہلے یورپ میں آباد تھے۔لیکن اب اس بنا پر وہ یورپ کی حکومتوں سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتے کیونکہ پہلے ہمارے آباؤ اجداد یہاں سے گئے تھے اس لئے تم پابند ہو کہ اگر تمہارے ملک کے باشندے اسے نہ بھی پسند کریں تو بھی ہمیں اپنے ملک کی شہریت کے حقوق دو۔اور جب ہم یہاں آجائیں گے تو تمہیں چاہئیے کہ اپنے ملک کا ایک حصہ ہمیں اس لئے دے دو تا کہ ہم اس میں اپنے لئے ایک علیحدہ ریاست بنا ئیں۔باوجود تمام طاقت کے یہ ممالک یورپ کے کسی ملک سے یہ مطالبہ کرنے کی جراء ت نہیں