سلسلہ احمدیہ — Page 299
299 ہے۔کیونکہ اس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ پہلے بڑی طاقتوں نے وہاں پر ، وہاں کے باشندوں کی مرضی کے خلاف یہودیوں کو آباد کیا اور اس کے نتیجے میں یہ معاملہ بین الاقوامی نوعیت کا ہو گیا ہے، اس لئے اب دوسرے ممالک کو یہ اختیار بھی مل گیا ہے کہ وہ فلسطین کو وہاں کی اکثریت کی مرضی کے خلاف اپنی خواہشات کے مطابق تقسیم ریں۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اختیارات کی اس عجیب و غریب تقسیم میں اختیارات سارے دوسرے ممالک کے حصے میں آتے تھے اور اُس ملک کے باشندوں کو صرف کامل فرمانبرداری کی نصیحت کی جارہی تھی۔دوپہر کے وقفے سے پہلے ایران کے نمائندے نے مختصر تقریر میں اس تجویز کو غیر قانونی قرار دیا اور پھر مصر کے نمائندے نے اپنی تقریر میں یہ واضح کیا کہ اگر یہ تجویز منظور بھی ہو گئی تو مصر کے نزدیک اس کی حیثیت صرف ایک سفارش کی ہوگی اور مصر کے لئے اس کا تسلیم کرنا ضروری نہیں ہوگا۔اس کے بعد بارہ بج کر پچاس منٹ پر جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں وقفے کا اعلان کیا گیا۔جنرل اسمبلی میں رائے شماری ملتوی کرائی جاتی ہے: اب تک جن آراء کا اظہار ہوا تھا ، اس سے یہ صاف نظر آرہا تھا کہ ابھی تک امریکہ اور روس کی تجویز کو دو تہائی کی اکثریت حاصل نہیں ہے اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ آج ہی رائے شماری کرائے جائے گی۔لیکن اس کے ساتھ اس بات کا برملا اظہار کیا جا رہا تھا کہ بڑی طاقتیں دوسرے ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ اس تجویز کے حق میں رائے دیں اور لائیپیر یا کے نمائندے نے تو حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے سامنے کہ بھی دیا تھا کہ اب تک تو یہی ہدایت ہے کہ اس تجویز کے خلاف ووٹ دینا ہے ، مگر دباؤ بڑھ رہا ہے ، کل تک پتہ نہیں کیا ہو جائے۔سہ پہر کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے عراق کے وزیر خارجہ پریشانی کی حالت میں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آج کا اجلاس بغیر رائے شماری کے ملتوی ہو رہا ہے۔یہ دونوں مل کر جنرل اسمبلی کے صدر مسٹر رانیا کے پاس گئے۔صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ کل Thanks giving Day کی وجہ سے تعطیل ہے اور سیکریٹری جنرل کہتے ہیں کہ اسمبلی کا سٹاف